عام آدمی پارٹی کو اقتدار پر دیگر ریاستوں میں بھی قسمت آزمائی ، زعفرانی قوتوں کے حوصلوں پر بھی منفی اثرممکن
حیدرآباد 8 فروری (سیاست نیوز) دہلی میں عام آدمی پارٹی کو قطعی اکثریت نے یہ اشارہ دینے شروع کردیئے ہیں کہ ہندوستان میں فرقہ پرست، بدعنوان اور غیر منظم سیاسی جماعتوں کے خاتمے کا دور شروع ہوچکا ہے۔ عام آدمی پارٹی ملک کے دارالحکومت پر قبضہ کے ذریعہ ملک میں تیزی سے فروغ پارہے دو پارٹی نظریہ کے خاتمہ کے ذریعہ بہترین متبادل بن سکتی ہے۔ دہلی انتخابات کے نتائج کے بعد ممکن ہے کہ ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلی اور بدعنوانیوں کے خاتمہ کے عہد و پیماں کا نیا دور سیاسی جماعتوں میں شروع ہوگا لیکن ہندوستانی عوام اب مزید کسی دور کو آزمانے کے بجائے عام آدمی پارٹی کو بہترین متبادل کے طور پر دیکھنے کے موڈ میں نظر آرہے ہیں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں عام آدمی پارٹی ہی دیانتدار، سیکولر، اصلاح پسند اور ترقی کی راہ پر گامزن سماج کی تشکیل کے لئے بہترین سیاسی متبادل ثابت ہوگی۔ دہلی عام انتخابات کے نتائج ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں ملک کا سیاسی نظام زعفرانی ذہنیت کے عکاس گروہ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنتا نظر آرہا تھا لیکن دہلی میں ہوئے انتخابات کے نتائج کے متعلق اگزٹ پولس میں عام آدمی پارٹی کو اقتدار کی پیش قیاسی سے زعفرانی قوتوں کے حوصلے پست ہونے کے قوی امکانات پیدا ہوچکے ہیں۔ ہندوستانی سیاسی نظام میں جو خلاء پیدا ہوا تھا اس خلاء کو پُر کرنے کے لئے اور دیانتدارانہ سیاست کے ذریعہ عوامی خدمات کو یقینی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی نے ترقیاتی منصوبہ اور عوام کے ذریعہ حکومت کو قابل عمل بنانے کے اعلانات کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیا اور عام آدمی پارٹی کی انتخابی مہم و پارٹی کے متعلق عوامی رائے نے ناقابل تسخیر تصور کی جانے والی مودی لہر کو بھی بہادیا اور عوام نے کھل کر مذہب، ذات پات، اقتدار و طاقت کے علاوہ روایتی رائے دہی کے بجائے مسائل کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ عوام اب باشعور انداز میں مسائل کے حل اور ترقی کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرنے والی تمام بدعنوانیوں کو دور کرنے کا ذہن تیار کرچکے ہیں۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کو اقتدار کا حصول ہندوستانی رائے دہندوں کے شعور کی عکاسی کرے گا۔ لیکن اس کے مثبت و منفی اثرات ملک کی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔ عام آدمی پارٹی قائد اشوتوش نے کہاکہ 10 فروری کے نتائج ہندوستانی سیاست پر دوررس نتائج مرتب کریں گے اور ملک ایک مثبت تبدیلی کی کروٹ لے گا۔ 2014 ء عام انتخابات کو اقتدار کا حصول کانگریس کی نااہلی یا بدعنوانیوں کا نتیجہ ممکن تھے چونکہ کانگریس نے 10 سال اقتدار پر رہتے ہوئے جو کچھ کیا یا اپنے دور میں ہونے والی بدعنوانیوں پر اختیار کردہ خاموشی کا فائدہ بالواسطہ طور پر بی جے پی کو پہنچایا لیکن اندرون 9 ماہ بی جے پی بالخصوص وزیراعظم کا نعرہ ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کھوکھلا ثابت ہوگیا۔ معروف ٹی وی جرنلسٹ برکھادت نے دہلی میں ہوئی رائے دہی اور اگزٹ پول پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہہ دیا ہے کہ نتائج مودی لہر کے خاتمہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ 10 فروری کے نتائج عام آدمی پارٹی کے حق میں اعلان ہوجانے کے بعد جو حالات قومی سیاست میں پیدا ہونے کی توقع ہے ان میں امکان ہے کہ ملک بھر میں اب صرف تین نظریات کے درمیان سیاسی رسہ کشی ہوگی جس میں دیانتداری بمقابلہ بدعنوانی، مذہبی منافرت بمقابلہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ترقی بمقابلہ پسماندگی شامل ہیں۔ چونکہ ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ترقی کا مکھوٹا پہن کر اپنے فرقہ وارانہ تعصب کو چھپانے کی کوشش کی اور یہ کوشش دیرپا ثابت نہیں ہوئی۔ کانگریس جوکہ اقلیتوں کی خوشامد پسندی کا بے بنیاد الزام اٹھائے اپنے نظریات کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے وہ بھی دہلی میں کسی علاقائی جماعت سے بری صورتحال کا سامنا کرسکتی ہے جس کی بنیادی وجہ کانگریس میں نظریات کا فقدان ہوسکتا ہے۔ مسٹر راگھو چڈھا ترجمان عام آدمی پارٹی نے کہاکہ دہلی ابتداء ہے اور اس کے مثبت اثرات ملک کے رائے دہندوں پر مرتب ہوں گے۔ عام آدمی پارٹی کو دہلی میں قطعی اکثریت حاصل ہونے کے بعد بی جے پی کے ہی نہیں بلکہ ان تمام فرقہ پرست قوتوں کے خواب چکنا چور ہوجائیں گے جو آئندہ 10 سال کے منصوبے تیار کررہے تھے۔ ساتھ ہی وہ سرمایہ دار جو ملک کے عوام کا خون چوس کر اقتدار کی گلیاریوں کو سیراب کررہے ہیں ان کے منصوبے بھی دھرے کے دھرے رہ جانے کا امکان ہے۔ سینئر صحافی دبانگ نے بھی عام آدمی پارٹی کی کامیابی کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہاکہ لوک سبھا انتخابات کے بعد تاخیر سے دہلی انتخابات کے انعقاد نے بی جے پی کو نقصان پہنچایا ہے۔ دہلی میں اقتدار کے حصول کے بعد عام آدمی پارٹی ملک بھر میں باشعور رائے دہی کے نظریہ کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی کرسکتی ہے اور اُمید ہے کہ مستقبل قریب میں ہونے والے ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں بھی حصہ لے۔ ریاست اترپردیش، مغربی بنگال اور بہار میں انتخابات کی صورت میں دہلی کی طرح رائے دہندوں میں شعور اُجاگر ہوسکتا ہے۔ چونکہ عام آدمی پارٹی کو ان ریاستوں کے لئے بھی دہلی کے طرز پر بلو پرنٹ کی تیاری کا وقت حاصل ہے۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ وہ جن انتخابات کی نگرانی کرتے ہیں، ان انتخابات میں کامیابی یقینی ہوتی ہے لیکن عام آدمی پارٹی کی تیاری کے آگے ان کی چالیں مات کھانے کے درپے ہیں اور یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ دہلی میں شکست کی خفت مٹانے کے لئے امیت شاہ دوبارہ دہلی کے کلبس میں سیاسی چالبازیوں کے نئے دور کا آغاز کرسکتے ہیں۔ ملک کی سیاست میں وقوع پذیر ہونے والی ان تبدیلیوں کے متعلق ماہر سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اب کانگریس کے وجود کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے جبکہ بی جے پی اپنی بقاء کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ دونوں سیاسی جماعتیں دیانتدارانہ سیاست کے نظریہ کو ختم کرنے کے لئے ملک بھر میں عوام کو فرقہ وارانہ خطوط پر منقسم کرنے کی کوشش کریں یا پھر بی جے پی کی مرکزی حکومت دہلی حکومت کے ساتھ عدم تعاون کا رویہ اختیار کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کی حکومت کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کرے۔