دہلی آنے سے کیشو راؤ کی معذرت خواہی، دونوں پارٹیوں میں اتحاد کے لیے حکمت عملی

کانگریس کا ٹی آر ایس سے ربط ، مفاہمت پر بات چیت کے لیے دعوت

حیدرآباد ۔ 10۔ مارچ (سیاست نیوز) آئندہ عام انتخابات میں ٹی آر ایس کی جانب سے کانگریس سے انتخابی مفاہمت نہ کرنے کے اشارے صاف طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹی آر ایس کے ذرائع نے بتایا کہ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری و انچارج آندھراپردیش امور ڈگ وجئے سنگھ اور مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے ٹی آر ایس قیادت سے ربط قائم کرتے ہوئے انتخابی مفاہمت کی بات چیت کی دعوت دی۔ تاہم ٹی آر ایس میں قائم کردہ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر کے کیشو راؤ نے دہلی آنے سے معذرت کرلی ۔ اس طرح پارٹی میں کانگریس سے انتخابی مفاہمت کے خلاف قیادت پر زبردست دباؤ دیکھا جارہا ہے ۔ کانگریس نے ٹی آر ایس کو انتخابی مفاہمت کیلئے راضی کرنے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی اور اعلان کیا کہ تلنگانہ ریاست میں کانگریس برسر اقتدار آنے پر پہلا چیف منسٹر دلت ہوگا۔ واضح رہے کہ تلنگانہ جدوجہد کے دوران صدر ٹی آر ایس چندر شیکھر راو نے بارہا اعلان کیا تھا کہ تلنگانہ کا پہلا چیف منسٹر دلت ہوگاتاہم پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی منظوری کے بعد وہ اس مسئلہ پر خاموش ہیں۔ ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے کے سی آر سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ خود چیف منسٹر کے عہدہ کو سنبھال لیں تاکہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی جاسکے ۔ چندر شیکھر راو نے بھی کہا کہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔ ٹی آر ایس کے اس موقف کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے دلت چیف منسٹر کا کارڈ کھیلا ہے تاکہ تنہا مقابلہ کی صورت میں اسے کمزور طبقات کی تائید حاصل ہوسکے ۔

تلنگانہ ریاست میں درج فہرست اقوام کی آبادی قابل لحاظ ہے، جسے پیش نظر رکھتے ہوئے کانگریس ہائی کمان نے یہ کارڈ کھیلا۔ انتخابی مفاہمت کے مسئلہ پر ٹی آر ایس کی شرط ہے کہ چیف منسٹر کا عہدہ ٹی آر ایس کے حق میں ہونا چاہئے جبکہ کانگریس اس کیلئے تیار نہیں۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس قائدین کا بھی اصرار ہے کہ پارٹی تنہا انتخابات میں حصہ لے اور کمزور و پسماندہ طبقات کی تائید حاصل کرتے ہوئے تشکیل حکومت کا موقف حاصل کیا جائے یہی وجہ ہے کہ تلنگانہ کے مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے جئے رام رمیش دلت کو چیف منسٹر بنانے اور درج فہرست اقوام و قبائل و پسماندہ طبقات کو حکمرانی میں موثر نمائندگی کا وعدہ کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس کے دلت کارڈ کا ٹی آر ایس کیسے مقابلہ کرے گی۔