واشنگٹن ۔ 17ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے شہر پشاور کے ایک اسکول میں ہوئے دہشت گردانہ حملے اور 141 ہلاکتوں کے بعد اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ پاکستان موثر اور سخت کارروائی کرتے ہوئے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ۔ یہ بات امریکی قانون سازوں نے اُس وقت کہی جب انھوں نے راہداری میں اس واقعہ کی مذمت اور مہلوکین سے اظہاریگانگت کے لئے علامتی طورپر ایک دوسرے کے ہاتھ تھام رکھے تھے ۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان کے اسکول پر حملہ یقینی طورپر بیمار ذہنیت کی علامت ہے ۔ جس سے ایک بار پھر یہ ظاہر ہوگیا کہ پاکستان طالبان کا بربریت میں کوئی ثانی نہیں کیونکہ اُن کے شدت پسند نظریات نے معصوم اور بے قصور بچوں کو بھی نہیں بخشا۔ کانگریس مین ایڈرائس نے یہ بات کہی ۔
پاکستان میں یوں تو دہشت گردانہ حملے ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن یہ حملہ انتہائی سنگین اور نچلے درجہ کا ہے جہاں بچوں کو نشانہ بناتے ہوئے طالبان نے اپنی بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے لہذا پاکستان کے لئے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ۔ مسٹر ایڈرائسن نے مہلوکین کے ارکان خاندان کو تعزیتی پیغامات روانہ کئے ہیں۔ دوسری طرف سینیٹر رابرٹ نے کہا کہ پاکستان آج اس واقعہ کے سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اور ہم بھی امریکہ سے مہلوکین کے ارکان خاندان کے ساتھ اظہارہمدردی و اظہارتعزیت کرتے ہیں۔ آج پاکستانی طالبان کی وجہ سے پاکستانی عوام کا پرامن زندگی گزارنا دشوار ہوگیا ہے جبکہ ملک میں استحکام کا بھی فقدان پیدا ہوگیا ہے ۔ اسی طرح سینیٹر کریس مرفی نے خودکش حملہ کی زبردست مذمت کرتے ہوئے مہلوکین کے ارکان خاندان سے اظہار تعزیت کیا ۔یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے ذریعہ دراصل عسکریت پسندوں کی ہلاکت امریکہ کو مطلوب ہے لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ گیہوں کے ساتھ گُھن بھی پس جاتا ہے بالکل اُس طرح ڈرون حملوں کے دوران عسکریت پسندوں کے علاوہ عام شہری بھی حملہ کی زد میں آرہے ہیں جس سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔