دہشت گردی کے سائے میں پاکستان کیساتھ بات چیت نہیں

اقوام متحدہ ۔14 اکٹوبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان نے کہا ہے کہ سنجیدہ نوعیت کی باہمی بات چیت صرف ’’دہشت گردی کے سائے کے بغیر ‘‘ ہی ہوسکتی ہے جبکہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اُٹھایا۔ دو ٹوک ہندوستانی موقف یو این جنرل اسمبلی میں جمعہ کو نوآبادیات کے مسائل کے بارے میں منعقدہ فورتھ کمیٹی میٹنگ میں پیش کیاگیا جبکہ پاکستانی مندوب نے کشمیر کا مسئلہ چھیڑا۔ پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ اقوام متحدہ کا کالونی سسٹم ختم کرنے کا ایجنڈہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کی یکسوئی کے بغیر نامکمل رہے گا اور اسلام آباد اس مسئلے کی یکسوئی کیلئے نئی دہلی کے ساتھ بات چیت کیلئے رضامند ہے ۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان جموںو کشمیر تنازعہ کا دوستانہ حل ڈھونڈنے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان معمول کے تعلقات بحال کرنے کے ضمن میں جامع مذاکرات چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کیلئے اس تنازعہ کی پرامن یکسوئی لازمی ہے ، ان الفاظ کے ساتھ انھوں نے وزیراعظم نواز شریف کے یو این جنرل اسمبلی سے خطاب کا حوالہ دیا جہاں انھوں نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا اور اس مسئلے کو حل کرنا بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے ۔ اپنے حق ردعمل سے استفادہ کرتے ہوئے ہندوستانی مشن برائے اقوام متحدہ سے وابستہ فرسٹ سکریٹری ابھشیک سنگھ نے پاکستانی سفارتکار کے ’’ناقابل قبول ‘‘ تبصروں کو مسترد کردیا اور انھیں وزیراعظم نریندر مودی کے گزشتہ ماہ جنرل اسمبلی میں کئے گئے ریمارکس کے تعلق سے یاد دلایا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے سائے کے بغیر پرامن ماحول میں سنجیدہ باہمی مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ پاکستانی سفارتکار نے اس کے جواب میں کہا کہ اُن کا ملک دہشت گردی کی اس کی تمام شکلوں میں مذمت کرتا ہے اور جموںوکشمیر کے عوام کی اپنے جائز حقِ خود ارادیت کیلئے منصفانہ جدوجہد کو دہشت گردی کا لیبل لگاکر پسپا کیا نہیں جاسکتا۔