دہشت گردی کیخلاف عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کی ضرورت

اقوام متحدہ ۔ 18 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو پیغام دیا کہ 2015ء کا سال عالی سطح پر کارروائی کا سال ہوگا کیونکہ عالمی برادری کو اب دہشت گردی سے نمٹنے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ علاوہ ازیں عالمی مجلس (اقوام متحدہ) میں اصلاحات کے لئے بھی اہم اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اسے عالمی منظر نامہ سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے 2015ء میں اپنائی جانے والی حکمت عملی کا تذکرہ کیا کہ دنیا کے ایسے تمام ممالک جنہیں دہشت گردی کا سامنا ہے وہ اس کے سدباب کیلئے ایسے اقدامات کریں جو آج تک نہیں کئے گئے۔ 2014ء کے اختتام میں اب صرف کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں اور بان کی مون ہمیشہ سال کے اختتام کے دوران ایک خصوصی پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ گذرنے والے سال کے اہم واقعات کا جائزہ لیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء جاتے جاتے ایک ایسا زخم دے گیا جس کا بھرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ ان کا اشارہ پشاور کے ملٹری اسکول میں طالبان کے حملہ کی جانب تھا جہاں سینکڑوں بچے آناً فاناً موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں ہونے والے واقعات ہمارے لئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں جبکہ آئندہ سال موسمی تغیر پر بھی اہم معاہدے ہونے والے ہیں۔ 2015ء اس طرح بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اقوام متحدہ اپنی تشکیل کے 70 برس مکمل کررہا ہے اور دنیا کے کسی بھی ملک میں مصائب سے دوچار عوام کی پکار سننا ہی اقوام متحدہ کی ڈیوٹی ہے کیونکہ اگر عوام مصائب کا شکار ہیں تو ان مصائب کو خوشحالی میں بدلنا اقوام متحدہ کا فرض ہے اور اسی طرح عوام کے مستقبل کو خوشگوار بنایا جاسکتا ہے۔ بان کی مون نے اس موقع پر افغانستان پر نائجیریا کا بھی تذکرہ کیا۔ سڈنی میں ہوئے یرغمالی ڈرامہ پر بھی انہوں نے روشنی ڈالی اور کہا کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے اور ایاسا کرنے والے کیسے لوگ ہوں گے۔ آج حالت یہ ہیکہ انسان دو وقت کی روٹی کیلئے دن رات جدوجہد کرتا ہے اور جب وہ اس قابل ہوجاتا ہے تو اس کی توجہ روٹی سے کہیں اور منتقل ہوجاتی ہے۔ لوگ آخر پرامن زندگی گذارنے پر یقین کیوں نہیں رکھتے لہٰذا عالمی برادری کا فرض ہیکہ وہ ان ممالک کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنے سیاسی وسائل کو بروئے کار لائیں تاکہ ان ممالک کو بھی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔