لندن ؍ کولکاتہ ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے جمعرات کو کہا کہ دہشت گردی کو عیسائی مغربی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کے درمیان جنگ نہ سمجھا جائے۔ ٹرمپ کے دہشت گردی کے نقطہ نظر پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کیمرون نے کہا کہ یہ جنگ دراصل دین اسلام کے نظریہ کو پیش کرنے والے ’’تیز اذہان‘‘ کے ساتھ ہے جو اسلام کے اصل نظریہ سے بالکل مختلف نظریہ پیش کرتے ہیں۔ کیمرون نے مزید کہا کہ جب میں ٹرمپ کی تقاریر ؍ بیانات کو سنتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہیکہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی ۔ اسلام اور مغربی عیسائی ممالک کے درمیان ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔ کیمرون نے ایک بات کی طرف توجہ دلائی کہ دہشت گردی کے مسائل صرف مشرق وسطیٰ میں ہی نہیں بلکہ افغانستان، پاکستان، ہندوستان اور برطانیہ میں بھی ہیں۔ انڈین چیمبر آف کامرس کے سالانہ اجلاس میں خطاب کے دوران کہا کہ ہمارا اصل کام یہ ہونا چاہئے کہ ان دہشت گردوں کو اور انہیں تربیت و مالیہ فراہم کرنے والوں کو پہچانیں۔ اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں کیمرون نے کہاکہ اگر مذکورہ بالا دونوں ممالک میں امن قائم ہوجائے تو دنیا میں امن کو استحکام حاصل ہوجائے گا لیکن دہشت گردی کے خاتمہ کا تیقن پھر بھی نہیں دیا جاسکتا ۔
مسٹر رعد منش نے کہا کہ ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے کہ یہ حملہ افغان فضائیہ یا امریکی لڑاکا طیارے کی طرف سے کیا گیا تھا۔