منادر سے سائی بابا کی مورتیاں ہٹادینے اور فلم پی کے پرپابندی کا مطالبہ
الہ آباد ۔ 19 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہندو مذہبی پیشواؤں کے اجتماع نے منادر سے شری ڈی سائی با با کی مورتیاں ہٹادینے اور متنازعہ عامر خاں کی فلم پی کے پر پابندی عائد کرنے اصرار کیا ہے اور یہ مطالبہ کیا کہ سنسر بورڈ کے ارکان کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے فلم پی کے کی نمائش کی اجازت دی ہے کیونکہ اس فلم میں مذہبی جذبات پامال کیا گیا ہے ۔ شنکر آچاریہ دواراکا سوامی سوروپ آنند سرسوتی اور شنکر آچاریہ پوری حسوامی نشچل آنند سرسوتی کی زیر نگرانی منعقدہ دھرم سنسد کا کل شب اختتام عمل میں آیا۔ ہندو مذہبی رہنماؤں نے کئی ایک قراردادیں منظور کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ سائی بابا نہ تو گرو تھے اور نہ گاڈ (بھگوان) تھے۔ لہذا ہندو منادر سے سائی بابا کی مورتیوں کو نکال دیا جائے اور مقدس مقامات کو بدعنوان لوگ کے اثر و رسوخ سے پاک رکھا جائے ۔ سنگم کے قریب واقع دواراکا شنکر آچاریہ کے احاطہ میں منعقدہ دھرم سنسد میں ہندی فلم پی کے کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو کہ ایک ماہ قبل ریلیز ہوئی ہے ، اس فلم پر فی الفور امتناع کا مطالبہ کرتے ہوئے سنسر بورڈ ارکان کے خلاف کارروائی پر زور دیا جنہوں نے اس فلم کو سرٹیفکٹ جاری کیا ہے۔ ایک ماہ تک جاری مذہبی میلہ (مگھ میلہ ) میں سینکڑوں سادھو اور سنتوں اور مذہبی پیشوا شریک ہیں جس میں منظورہ مختلف قراردادوں میں ذبیحہ گاؤ پر پابندی ، سنسکرت زبان کا فرؤغ ، ہندوؤں کی تبدیلی مذہبی کی روک تھام، ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، سنستان دھرم پر سخت سے عمل آوری ، سرکاری اسکیمات کو ہندی زبان میں نام رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ دواراکا شنکر آچاریہ جن کے تعلقات سنگھ پریوار سے خوشگوار نہیں ہیں، اپنے خطاب میں یہ ریمارک کیا کہ ہمیں ہندو عقائد کی تبلیغ کیلئے سرگرم عمل ہوجانا چاہئے تاکہ ہماری آبادی گھٹنے نہ پائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے جو کہ آبادی میں ا ضافہ کی کوششوں سے زیادہ موثر ثابت ہوگا۔ واضح رہے کہ ہندو مذہبی کو سیاسی لیڈروں نے ہندوؤں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ آبادی میں اضافہ کیلئے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں۔ اس حصوص میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج کا بیان نریندر مودی حکومت کیلئے مشکلات کھڑا کر دیا تھا ۔ اس طرح کا ریمارک وشوا ہندو پریشد کے شعلہ بیان مقرر پروین توگاڑیہ نے بھی کل یہ کہا تھا جبکہ سنگھ پریوار کے ایک قریبی سوامی واسو دیوانندا سرسوتی نے کہا تھا کہ ہندوؤں کے 10 سے زائد بچے پیدا کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔