نئی دہلی ۔ 13 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے آج وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے بشمول سنگھ پریوار کی تنظیموں پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کیلئے عوام کو اکسا رہی ہیں۔ سماج کو منتشر کرنے کیلئے نت نئے ہنگامے کررہے ہیں۔ ان الزامات کو حکمراں بی جے پی پارٹی نے سختی سے مسترد کردیا اور جوابی الزامات عائد کئے۔ کانگریس نے الزام عائد کیاکہ نریندر مودی حکومت کے اقتدار پر آنے کے دو ماہ کے اندر ملک کے مختلف حصوں میں 600 فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں خاص کر اترپردیش اور مہاراشٹرا جیسی ریاستوں میں جہاں انتخابات ہونے والے ہیں،
فسادات کی آگ بھڑکائی ہے۔ لوک سبھا میں مباحث کا آغاز کرتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کو سختی سے نمٹنے کیلئے مزید مؤثر میکانزم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیاں ’’معاشرہ کو منقسم‘‘ کرنے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ اقتدار پر برقرار رہ سکیں۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر فرقہ وارانہ فسادات پر قابو نہیں پایا گیا ہم مورچہ سنبھال لیں گے۔ اس بیان پر حکمراں بنچوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ کھرگے نے کہا کہ بی جے پی کو فسادات بھڑکانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ آپ نے حکومت بنائی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوسروں پر حاوی اور مسلط ہوجائیں۔ کھرگے نے وی ایچ پی اور بجرنگ دل کا نام لیتے ہوئے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے بعض تبصروں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ یہ فرقہ پرست طاقتیں بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے بعد بے قابو ہوگئی ہیں۔ اب وہ یہ سمجھ رہی ہیں کہ انہیں سیاسی طاقت پر اقتدار حاصل ہوا ہے۔ ان کو من مانی کرنے کی اجازت ملے گی۔ ان کے ہر گناہ کا مودی حکومت تحفظ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کانگریس پر الزام عائد کررہی ہے کہ وہ اولڈ بینک کی سیاست میں ملوث ہے۔
حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ ہم سماج کو متحد رکھنا چاہتے ہیں اور آپ سماج میں پھوٹ ڈال رہے ہیں۔ سی پی آئی ایم کے محمد سلیم نے کہا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران ملک کے مختلف علاقوں کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک دیا گیا ہے۔ آپ سماج کو مذہب کی بنیاد پر منقسم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اقلیتیوں جیسے کمزور طبقات پر اپنے اصولوں کو مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بی جے پی سمجھتی ہیکہ وہ اس ملک کی ٹھیکیدار ہے خاص کر ایک مذہب کا ٹھیکہ اس نے لیا ہے۔ بی جے پی نے ملک میں مودی حکومت کے آنے کے بعد 600 فسادات ہونے کھرگے کی بتائی گئی تعداد پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ریاستوں میں لا اینڈ آرڈر مسئلہ ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔