سڑکوں پر کچرا پھینکنے والوں کے خلاف جرمانہ ، سوچھ حیدرآباد جائزہ اجلاس سے کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد /22 مئی ( این ایس ایس ) تلنگانہ کے ریاستی حکومت میں کچرے دانوں کے بجائے سڑکوں پر کچرا پھیکنے والوں کے خلاف بھاری جرمانے عائد کرنے کا ایک منصوبہ تیار کیا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندرا شیکھر راؤ نے یہ اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کو کوڑا کرکٹ سے پاک بنایا جانا چاہئے اور حکومت اس مقصد کیلئے ہر گھر کو دو قسم کے کچرے دان سربراہ کرے گی اور روزآنہ سائیکل رکشا ہر گھر پر پہونچکر کچرے کی یہ دونوں پلاسٹک تھیلیاں جمع کریں گے ۔ جمع شدہ کچرے کو توانائی کی پیداوار کیلئے استعمال کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے سوچھ حیدرآباد پر ہائی ٹیکس میں گورنر ای ایس ایل نرسمہن کی موجودگی میں منعقدہ جائزہ اجلاس سے خطاب کے دوران دعوی کیا کہ پانچ روزہ سوچھ حیدرآباد مہم کامیاب رہی اور صفائی کیلئے یہ کام جاری رہے گا ۔ انہوں نے شہریوں اور دوکانداروں پر زور دیا کہ وہ سڑکوں پر کچرا پھیکنے سے گریز کریں ۔ کے سی آر نے کہا کہ حیدرآباد میں غریبوں کیلئے دو مرحلوں میں دوران دو لاکھ گھر تعمیر کئے جائیں گے ۔ چندر شیکھر راؤ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ میٹرو ریل کے ستونوں اور دیگر عام مقامات پر اب سے ان ( کے سی آر ) کے یا دیگر ریاستی وزراء کے کوئی پوسٹرس نہیں لگائے جائیں گے ۔ انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین سے اپیل کی کہ وہ بھی اس طریقہ کار پر عمل کریں ۔ حیدرآباد میٹرو ریل ( ایچ ایم آر ) کے مینیجنگ ڈائرکٹر این وی ایس ریڈی نے تجویز پیش کی تھی کہ اکثر عوامی مقامات اور بالخصوص خوبصورتی سے بنائے گئے میٹرو ریل کے ستونوں پر سیاسی قائدین کی تصاویر اور پوسٹرس سے خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے چنانچہ اس طریقہ کار کو روکا جانا چاہئے ۔ جس کے جواب میں چیف منسٹر کے سی آر نے مثبت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا اور دیگر سیاسی جماعتوں سے خواہش کی کہ وہ بھی رضاکارانہ طور پر یہ طریقہ کار اختیار کریں ۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ عوامی مقامات سے ہورڈنگس اور پوسٹرس ہٹادیں ۔ کے سی آر نے کہا کہ اب چونکہ برقی کا مسئلہ حل ہوچکا ہے چنانچہ حکومت پینے کے پانی اور صحت و صفائی جیسے اہم مسائل کی یکسوئی پر توجہ مرکوز کرچکی ہے اور حیدرآباد کے شہریوں کو روزآنہ 24 گھنٹے پانی کی سربراہی کے منصوبہ پر غور کیا جارہا ہے ۔ یلم پلی پراجکٹ کے ذریعہ اس سال ستمبر سے شہر کو دریا گوداوری سے 35ٹی ایم سی پانی حاصل ہوگا ۔ جبکہ دریا کرشنا ، سنگور اور گنڈی پیٹ سے 25 ٹی ایم سی پانی حاصل ہوگا ۔ حیدرآباد کی آبادی میں ہر سال 10 لاکھ نفوس کا اضافہ ہو رہا ہے چنانچہ حکومت آئندہ 30 سال کی ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے مستقبل کے منصوبہ کو قطعیت دے رہی ہے ۔