گرما میں سربراہی آب کو مؤثر بنانے کرشنا سے 90 ملین گیلن پانی کے حصول کی کوشش
حیدرآباد /17 فروری (سیاست نیوز) گرما کے ابتدائی دنوں سے ہی حیدرآباد و سکندر آباد کے علاوہ مضافات میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہونے کے آثار ہیں، تاہم اس پر قابو پانے کے لئے حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر بورڈ دریائے کرشنا سے تیسرے مرحلہ میں 90 ملین گیلن پانی حاصل کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہا ہے، لہذا 31 مارچ تک 45 ایم جی ڈی پانی حیدرآباد پہنچنے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ حیدرآباد و سکندرآباد کے علاقوں میں روزانہ 490 ایم جی ڈی پانی کی ضرورت ہے، لیکن صرف 340 ایم جی ڈی پانی سربراہ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے بموجب دریائے کرشنا سے 90 ایم جی ڈی پانی جون کے اواخر تک حاصل ہونے کا امکان ہے، جس سے کچھ حد تک پانی کی قلت دور ہو سکتی ہے۔ 31 مارچ تک پہلے مرحلہ میں 45 ایم جی ڈی پانی کے حصول کے لئے حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر ورکس اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ٹرائل کے لئے ایک پمپ کو چالو کردیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں شہروں کو دریائے کرشنا سے روزانہ 180 ایم جی ڈی پانی حاصل ہو رہا ہے۔ چار سال قبل ہی شہر حیدرآباد کو دریائے کرشنا سے تیسرے مرحلہ میں پانی حاصل کرنے کے لئے 1670 کروڑ روپئے کے مصارف سے کام کا آغاز کیا گیا تھا، جب کہ پائپ لائن کی تنصیب کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کونڈا پور میں دریائے کرشنا کا پانی حاصل کرنے کے لئے پمپ لگائے گئے ہیں، تاہم 90 ایم جی ڈی پانی کے حصول کے لئے 8 موٹرس کے علاوہ اتفاقی طورپر استعمال کے لئے 4 موٹرس زائد لگائے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایک موٹر کے ذریعہ 11.25 ایم جی ڈی پانی حاصل کرکے کونڈا پور سے 34 کیلو میٹر دور نارکٹ پلی کے ذخیرۂ آب تک پہنچایا جا رہا ہے، جہاں پانی کی صفائی کے بعد 22 کیلو میٹر کے فاصلہ پر گندل پہنچایا جا رہا ہے، جب کہ گندل سے صاحب نگر اور وہاں سے شہر کے لئے پانی سربراہی کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ اس دوران حیدرآباد میٹرو واٹر بورڈ کے ڈائرکٹر جی راجیشور نے کہا کہ ایک ماہ تک تجرباتی اساس پر جائزہ لیتے ہوئے تسلسل سے پانی کے پمپنگ میں اضافہ کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ فی الحال ایک موٹر کے ذریعہ 11.25 ایم جی ڈی پانی حاصل کیا جا رہا ہے، جب کہ دو تین دن میں مزید ایک اور موٹر کا استعمال شروع ہو جائے گا، اس طرح 31 مارچ تک 45 ایم جی ڈی اور جون کے اواخر تک 90 ایم جی ڈی پانی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔