تیونس۔ 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ کے گروپ نے آج اپنے ایک بیان میں تیونس کی نیشنل میوزیم پر مہلک حملے کی ذمہ داری قبول کرلی جس میں 20 غیرملکی سیاحوں کے بشمول 23 افراد ہلاک ہوگئے۔ وزیر صحت تیونس نے آج کہا کہ تیونس کے قومی عجائب گھر (میوزیم) پر بندوق برداروں کے حملے میں 20 بیرونی سیاح ہلاک ہوئے ہیں۔ 13 مہلوکین کی شناخت کرلی گئی ہے اور 7 کی شناخت باقی ہے۔ وزیر صحت عدی نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ مہلوکین میں 3 جاپانی شہری، 2 اسپائنی ، ایک خاتون، ایک کولمبیائی، ایک آسٹریلیائی، ایک برطانوی خاتون اور ایک بلجیم کی خاتون، دو فرانسیسی، ایک پولینڈ کا شہری اور اٹلی کا ایک شہری شامل ہے۔ بیان کے بموجب حملہ آوروں کی تعداد 2 تھی اور دولت اسلامیہ نے کہا کہ ان حملہ آوروں کو خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل تھی جس کی بناء پر انہوں نے بے دینوں اور برائی کے اڈوں پر مسلم ملک ’’تیونیشیا‘‘ میں حملے کئے ۔ وہ اسلحہ کے ذخیرہ سے باہر نکل کر فرار ہورہے تھے جبکہ انہیں ہلاک کردیا گیا۔ دولت اسلامیہ ، شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قابض ہے اور اس سے ملحق گروپ پڑوسی ملک لیبیا میں بھی موجود ہے۔ کئی تیونیسی شہری جنگ کرنے اور جنگ کی تربیت دینے کیلئے لیبیا سے شام اور عراق منتقل ہوچکے ہیں۔ حکومت ِتیونس نے اعلان کیا کہ اعلان کیا کہ اس حملے کے سلسلے میں 4 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دیگر پانچ افراد ان کے حامی تھے، جنہیں ملک کے دیگر علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔ کئی سیاحوں کی ہلاکتوں کے نتیجہ میں اطالوی بحری جہاز کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ غیرمعینہ مدت کیلئے تیونس کو بحری جہازوں کی آمدورفت بند کررہا ہے۔