دولت اسلامیہ کا رمضی پر قبضہ ایک حقیقی دھکہ

بغداد ؍ واشنگٹن ۔ 19 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ایرانی فوج اور اس کے حلیف نیم فوجی جنگجو شہر رمضی کے اطراف و اکناف میں آج جمع ہوگئے۔ ان کا ارادہ ہیکہ تیز رفتار یلغار کرتے ہوئے شہر کو دولت اسلامیہ سے چھین لیں۔ اپنی صیانتی حکمت عملی اور 8 ماہ قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم حیدرالعبادی تیز رفتار یلغار کے مرتکب تھے۔ انہیں دولت اسلامیہ کے ملک کے وسیع علاقہ پر گذشتہ سال جون میں قبضہ کی وجہ سے بدترین دھکہ لگا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کا آغاز دولت اسلامیہ کے رمضی کے مشرق میں حملوں سے ہوا جو آج دوپہر شروع ہوئے جس کی وجہ سے حکومت کا قبضہ شہر رمضی پر سے برخاست ہوگیا۔ وزیراعظم عراق عبادی اور امریکہ کو امید ہیکہ وہ باقاعدہ فوج پر انحصار کرسکتے ہیں اور مقامی طور پر قبائیلی جنگجوؤں کو سرکاری فوج میں بھرتی کرسکتے ہیں تاکہ صوبہ عنبر میں دولت اسلامیہ سے مقابلہ کرسکیں۔ واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب دولت اسلامیہ نے رمضی پر قبضہ کرلیا ہے۔

وائیٹ ہاؤز کے بموجب یہ درحقیقت حکومت عراق کیلئے ایک بڑا دھکہ ہے اور دہشت گرد تنظیم کے خلاف دنیا بھر کی کوششوں کو بھی اس سے سخت دھکہ لگا ہے۔ وائیٹ ہاؤز نے عہد کیا کہ عراقی افواج کی مدد کی جائے گی تاکہ دولت اسلامیہ کی کامیابیوں کو برعکس کیا جاسکے۔ گذشتہ 18 ماہ سے شہر رمضی پر قبضہ کرنے کیلئے سرکاری افواج اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے جدوجہد جاری کی۔ صدر امریکہ بارک اوباما کو رمضی کی تازہ ترین صورتحال سے باخبر رکھا جارہا ہے۔ بارک اوباما نے کہا کہ امریکہ عراق کی صیانتی افواج کی اور حکومت عراق کی تائید کررہا ہے اور اس کیلئے باغیوں کے خفیہ ٹھکانوں پر چن چن کر فضائی حملے کئے جارہے ہیں۔ عراقی افواج کو مشورہ دیئے جارہے ہیں۔ ہمارے طیارہ اب بھی فضاء میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ نائب پریس سکریٹری وائیٹ ہاؤز ایریک شلٹز نے کہا کہ اس وقت تک حکومت عراق اور سرکاری فوج کی مدد جاری رکھی جائے گی جب تک کہ رمضی پر حکومت عراق کا دوبارہ قبضہ نہیں ہوجاتا۔ گذشتہ تین ماہ سے رمضی میں 32 فضائی حملے کئے گئے ہیں جن میں سے گذشتہ 24 گھنٹے میں 24 حملے کئے گئے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیاکہ آخرکار رمضی سے دولت اسلامیہ کو شکست دیکر خارج کردیا جائے گا۔ عراق کے دیگر علاقوں میں بھی انہیں شکست کا سامنا کرنا ہوگا۔ امریکہ کو اتحادی افواج کی مدد بھی حاصل ہے۔