واشنگٹن۔8مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) تقریباً 50ہزار ٹوئیٹر اکاؤنٹس خوفناک دولت اسلامیہ دہشت گروپ کے حامیوں کی جانب سے چلائے جارہے ہیں ۔ ممتاز امریکی دانشوروں کی ایک تنظیم کے سروے کے بموجب یہ ایک پریشان کن علامت ہے کہ سماجی ذرائع ابلاغ تک بھی مہلک تنظیم کی رسائی ہوچکی ہے ۔ دولت اسلامیہ کے خطرہ کو ناکام بنانے کی ٹوئیٹر کی جانب سے بار بار کوششوں کے باوجود جو گروپ سے متعلقہ اکاؤنٹس پر تشہیر اور تقررات کو معطل کر کے کی گئی تھیں ۔ داعش کے ہمدردوں نے ہزاروں سرگرم اکاؤنٹس سماجی نٹ ورک پر قائم کر رکھے ہیں ۔ مطالعہ کے بموجب صارفین میں ایک پابند نظم و ضبط بنیادی گروپ بھی شامل ہے جو وقفہ وقفہ سے پیغامات شائع کیا کرتا ہے اور سمجھا جارہا ہے کہ ان پیغامات کا اعظم ترین اثر مرتب ہورہا ہے ۔ آن لائن انتہا پسندی کے ایک ماہر جے ایم برجر نے کہا کہ جہادی ہر قسم کی ٹکنالوجی کا اپنے فائدہ کیلئے استحصال کررہے ہیں ۔ واشنگٹن میں قائم گروپ لنکس انسٹی ٹیوشن کی جانب سے شائع کردہ تحقیق کی برجر قیادت کررہے تھے ۔ اس تحقیق کو مالیہ گوگل آئیڈیاز نے فراہم کیا تھا لیکن دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ وہ دیگر کئی گروپس کے بہ نسبت زیادہ کامیاب ہے ۔یہ تحقیق ٹوئیٹر پر شائع کی گئی ہے ۔ دریں اثناء دولت اسلامیہ کے ایک فرانسیسی جنگجو نے خلافت اسلامیہ کو ایک مہذب مقام قرار دیتے ہوئے ایک ویڈیو پروگرام شائع کیا ہے ۔
اس کے بموجب دولت اسلامیہ تقریباً 65سالہ سابق فوجی تربیت کنندہ اور تاجر نے اپنا نام ابوصہیب الفرانسیسی ظاہر کیا ہے ۔ اُس نے اپنے نئے سلسلہ کی پہلی قسط امریکہ میںقائم سائیٹ مانیٹرنگ نٹ ورک پر شائع کی ہے ۔ اُس کے بموجب اُس نے اپنی 15منٹ کی تقریر میں اپنے قبول اسلام کی داستان بیان کی ہے اور جہاد میں اپنی شمولیت اور النصرہ محاذ کی جانب سے جو شام میں القاعدہ کی ایک شاخ ہے اپنے استرداد کی داستان بیان کی ہے ۔ اُس نے یاد دہانی کی کہ ابوبکر الغدادی نے جون میں اعلان کیا تھا کہ جنگجو ایک خلافت قائم کررہے ہیں جس میں شام اور عراق کا بڑا حصہ شامل ہے ۔ اُسی وقت سے اُس نے دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کی خواہش محسوس کی تھی ۔میڈریڈ سے موصلہ اطلاع کے بموجب ایک مراقشی خاتون کو اسپین کے ایئرپورٹ پر گرفتار کرلیا گیا ۔ اُس پر یوروپی اور شمالی افریقی خواتین کو دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کا الزام ہے ۔