’’دوسروں کے کام سے سروکار ہی صحافت‘‘

اردو یونیورسٹی میںدیہی صحافت پر ممتاز صحافی ہرپال سنگھ کالکچر
حیدرآباد، 18؍ اپریل (پریس نوٹ): دوسروں کے کام سے سروکار ہی دراصل صحافت ہے۔ انگریزی اخبار دی ہندو کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر سردار ہرپال سنگھ نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے طلبا کے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا۔ دیہی صحافت پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بامقصد صحافت موجودہ دور کا اُبھرتا رجحان ہے جس کا مقصد نمائندگی سے محروم طبقات تک روشنی پہنچانا ہے۔ مغربی صحافت میں سیاست کی جگہ سکڑتی جارہی ہے جبکہ انسانی دلچسپی کی خبروں کو نمایاں طور پر شائع کیا جاتا ہے۔ شہری اور دیہی صحافت میں فرق واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت ، پارک کی جگہ میں کمی ،شہری مسائل ہیں، دیہی عوام کے لیے آمدنی میں تفاوت ایک اہم مسئلہ ہے۔ سینئر انگریزی صحافی نے کہا کہ سنسنی خیزی کے بغیر بھی ہم خبر نگاری کرسکتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں شہریوں کی صحافت کا رجحان سامنے آیا ہے لیکن یہ اعتبار سے محروم ہے۔ دیہی علاقے کا ایک کامیاب صحافی بننے کے لیے ضروری ہے کہ آپ علاقے کے جغرافیہ، کاشت کاری کے انداز اور اہم گروپس سے واقف ہوں۔ سیاسی اقتدار اور موسم سے بھی آگاہی ضروری ہے۔ ہندوستان کی 70 فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے۔ حکومت کی بیشتر اسکیمات دیہاتوں ہی میں نظر آتی ہیں۔ جناب ہرپال سنگھ گزشتہ 17 سال سے تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کی رپورٹنگ کررہے ہیں۔