دن میں تعلیم رات میں کاروبار ۔ ستیش کمار

عام آدمی کی خاص بات
دن میں تعلیم رات میں کاروبار ۔ ستیش کمار
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اکٹوبر : ( ابوایمل ) : آج ہم آپ کو عام آدمی کی خاص بات میں ایک ایسے محنتی نوجوان کو پیش کررہے ہیں جو ’ جہاں چاہ وہاں راہ ‘ کی ایک بہترین مثال ہے اور ایسے نوجوانوں کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے جو اپنی محنت و مشقت اور جدوجہد کے ذریعہ والدین کے لیے زحمت ثابت ہونے کے بجائے اپنی بے جا خواہشوں اور نا مناسب ضد کے ذریعہ والدین کے لیے زحمت ثابت ہوئے ہیں ۔ دراصل آج ہم نے مانصاحب ٹینک روڈ پر واقع فٹ پاتھ پر ایک 17 سالہ نوجوان آر ستیش کمار کو دیکھا جو نہایت ہی سلیقہ شعاری کے ساتھ فٹ پاتھ پر ہی ہوٹل کی طرح کھانا فراہم کررہا تھا ، مجھے لگا کہ اس نوجوان میں ضرور کچھ خاص بات ہے اور پھر ہم نے ان سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا ۔ ہمیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہ نوجوان دن تمام حصول تعلیم میں مصروف رہتا ہے اور پھر اپنے تعلیمی اخراجات کی پابجائی کے لیے شام 7 بجے سے رات گیارہ بجے تک کاروبار میں مصروف رہتاہے ۔ اس قدر جدوجہد کے بل بوتے دراصل وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ میرے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کا نام آر ستیش کمار اور والد کا نام آر پانڈو ہے ۔ ستیش کی عمر اس وقت محض 17 سال ہے اور وہ اے وی اے میری کالج سکندرآباد انٹر میں زیر تعلیم ہے ۔ تفصیلات کا اظہار کرتے ہوئے ستیش نے بتایا کہ ان کی والدہ روزانہ یہ سارا پکوان تیار کر کے ان کے حوالے کرتی ہیں جس میں جواری کی روٹی ، چپاتی ، پھلکے ، سبزی ، رائس ، لیمن رائس ، ترکاری بریانی وغیرہ شامل ہے ۔ ان تمام پکوانوں کو وہ شام میں کالج سے آنے کے بعد مانصاحب ٹینک روڈ کے فٹ پاتھ پر لاکر سلیقے سے سجا کر رکھتے ہیں اور پھر ایک صاف ستھرا ماحول فراہم کرتے ہوئے گاہک کو گھر کے جیسا پکوان فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور وہ اپنے اس منصوبے میں بہت حد تک کامیاب ہے ۔ فٹ پاتھ پر اسٹریٹ لائٹ کی روشنی میں کھانا فروخت کرنے والے ستیش نے مزید بتایا کہ انہیں یومیہ 500 روپئے کی آمدنی ہوجاتی ہے ۔ اس نے بتایا کہ اس کے بہت سارے مستقل گراہک ہیں جو یا تو ہاسٹل میں رہتے ہیں یا جن کی فیملی یہاں نہیں رہتی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ محض 20 ، 25 روپئے میں ستیش اپنے گاہکوں کو گھر جیسا کھانا فراہم کرتے ہیں ۔ نہایت ہی سنجیدہ اور خاموش مزاج ستیش نے بتایا کہ ایس ایس سی تک وہ میدک کے ایک ہاسٹل میں تعلیم حاصل کی ہے اور اب وہ ایم بی اے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کی تکمیل کے بعد وہ امریکہ جانے کی خواہش رکھتا ہے ۔ قارئین جب ہم وہاں موجود تھے تو وہاں آنے والے گاہکوں نے بھی ستیش کی تعریف کی اور بتایا کہ ستیش انتہائی محنتی ، خاموش مزاج اور سلیقہ شعار لڑکا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ محض 17 سال کی عمر میں ایک طرف وہ جہاں اپنے تعلیمی اخراجات کے لیے جدوجہد کررہا ہے وہیں دوسری طرف گھریلو اخراجات میں بھی ہاتھ بٹا رہا ہے ۔ جب کہ ہمارے معاشرے میں ایسے کئی نوجوان ہیں جو اس عمر میں حصول تعلیم کے محنت و مشقت تو دور اپنی بے جا خواہشوں ، قیمتی گاڑیوں اور سیل فونس کی بے جا ضد کے ذریعہ اپنے والدین کو پریشان کرتے رہتے ہیں ۔ ایسے نوجوانوں کو ستیش سے سبق حاصل کرنا چاہئے جس کی محنت اور لگن دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ مستقبل میں ضرور کسی بڑے ہوٹل کا مالک ہوگا ۔۔