دلیپ کمار کا آبائی گھر انہدام کے دہانے پر

پشاور ۔ 12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان فلمی صنعت بالی ووڈ کے افسانوی اداکار دلیپ کمار کا پاکستانی شہر پشاور میں واقع آبائی بنگلہ جسے قومی ورثہ کی عمارت بھی قرار دیا جاچکا ہے، بوسیدہ ہوجانے کے سبب دو منزلیں منہدم ہوجانے کے بعد اب باقی حصہ بھی کھنڈر بن گیا ہے۔ دلیپ کمار کے آبائی محلہ قصہ خوانی بازار سے متصلہ محلہ خداداد کے رہنے والوں نے حکومت سے درخواست کی ہیکہ قومی ورثہ کی حامل اس عمارت کو بچانے کیلئے فی الفور اقدامات کئے جائیں۔ دلیپ کمار کی یہ جائیداد گذشتہ سال قومی ورثہ قرار دی گئی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ پشاور کے عوام 5 مرلوں (تقریباً 150 مربع میٹر) پر مشتمل تین منزلہ عمارت کو فخر و افتخار کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ دلیپ کمار جو گذشتہ روز ہی 92 سال کے ہوگئے پاکستان کا اعلیٰ ترین سیول اعزاز نشان امتیاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ ان کا یہ گھر 130 مربع میٹر پر واقع ہے جس کو حکومت نے قومی یادگار کی حیثیت سے محفوظ کردیا ہے اور حکومت نے اس کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تو بنایا تھا لیکن تاحال کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ دلیپ کمار کے آبائی گھر کے قریب رہنے والے ایک شخص شاہ حسین نے کہا کہ ’’انتہائی پریشان کن صورتحال ہے۔ یہ (عمارت) کسی بھی وقت منہدم ہوسکتی ہے۔ اس عمارت کی خستہ حالی قومی و تہذیبی ورثہ کے تئیں حکومت کی لاپرواہی کی داستان بیان کرتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ قصہ خوانی بازار ماضی میں ہند ۔ پاک علاقہ کے ساتھ وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تہذیبی تبادلوں کا ایک مرکز تھا۔ دلیپ کمار جن کا پیدائشی نام یوسف خاں ہے اس گھر میں پیدا ہوئے تھے اور ابتدائی سات سال گذارے تھے کہ 1930 میں ان کا خاندان ممبئی میں مستقل طور پر منتقل ہوگیا تھا۔