نامور وکیل اجول نکم کو معاملہ سونپے جانے کا امکان : ریاستی وزیر
پونے ۔ 3 ۔ نومبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : حکومت مہاراشٹرا احمد نگر ضلع کے موضع جاڈکھیڑا میں ایک دلت خاندان کے تین افراد کے قتل معاملہ کو ملک کے اہم وکیل اجول نکم کو سونپنا چاہتی ہے ۔ ریاستی وزیر دلیپ کامبلے نے یہ بات بتائی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ 21 اکٹوبر کو نامعلوم حملہ آوروں نے ایک دلت خاندان کے تین افراد جن میں میاں ، بیوی اور ان کا 19 سالہ بیٹا شامل ہیں ، کو انتہائی بے رحمانہ طور پر قتل کردیا تھا ۔ بعد ازاں ان کی نعشوں کے ٹکڑے کردئیے تھے جو ایک کنویں سے برآمد ہوئے ۔ کامبلے نے کل غمزدہ خاندان سے ملاقات کی تھی اور بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نامور کریمنل وکیل اجول نکم کو یہ کیس سپرد کرنا چاہتی ہے ۔ بشرطیکہ وہ دستیاب ہوں ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اس قتل کا معمہ ’’ اندرون دو دن ‘‘ حل کرلیا جائے گا کیوں کہ ملزمین کی گرفتاری عمل میں آچکی ہے ۔ دوسری طرف ممبئی سے ملنے والی خبروں کے مطابق شیوسینا نے دلت خاندان کے تین افراد کے بہیمانہ قتل کے واقعہ کو ایک انتہائی خوفناک اور غیر انسانی حرکت سے تعبیر کیا اور کہا کہ اب یہ بی جے پی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ خود غرض سیاستداں اور نکسلائٹس اس واقعہ کا استحصال کرتے ہوئے تشدد برپا کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار سامنا میں اداریہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ پوری ریاست میں اس قتل کے واقعہ کے بعد عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے جس کے بعد نکسلائٹس کے دھمکیاں دینے کا سلسلہ پھر شروع کردیا ہے ۔ نئے وزیر اعلی دیویندر فرنویس سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ خاطیوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کو یقینی بنائیں ۔ یہ بات صحیح ہے کہ فرنویس حکومت نے ابھی ابھی اقتدار سنبھالا ہے لیکن چونکہ قتل کے اس واقعہ نے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے لہذا فرنویس حکومت فوری حرکت میں آتے ہوئے خاطیوں کو کیفرکردار تک پہنچائے ۔ نئی حکومت کے لیے یہ ایک چیلنج ہے اور اگر خاطیوں کو بروقت کیفرکردار تک پہنچایا گیا تو عوام کا حکومت پر اعتماد بڑھ جائے گا ۔ 42 سالہ تعمیری مزدور سنجے جادھو ، اس کی بیوی 38 سالہ جے شری اور ان کے 19 سالہ بیٹے سنیل کی نعشوں کے ٹکڑے ایک کنویں اور جادھو کے کھیت میں بکھرے پائے گئے تھے جنہیں گاؤں والوں نے مل کر اکٹھا کیا ۔