دفعہ 8 کے نفاذ کی کوئی گنجائش نہیں

چندرا بابو نائیڈو بوکھلاہٹ کا شکار : بی نرسیا گوڑ
حیدرآباد۔/16جون، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی نرسیا گوڑ نے چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے حیدرآباد میں آندھرا پردیش تقسیم سے متعلق قانون کے سیکشن 8پر عمل آوری کے ذریعہ گورنر کو زائد اختیارات دیئے جانے کے مطالبہ پر سخت تنقید کی۔ نرسیا گوڑ نے کہا کہ اسکام میں ملوث ہونے کا ثبوت ملنے کے بعد چندرا بابو نائیڈو دراصل بوکلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں اور خود کو بچانے کیلئے مرکز کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکشن 8 چندرا بابونائیڈو کی پردہ پوشی نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس قانون کے نفاذ کی کوئی گنجائش موجود ہے۔ نرسیا گوڑ نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو اور ان کے وزراء حیدرآباد میں تمام تر سہولتوں سے استفادہ کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت کے خلاف بھی سازشیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ تلنگانہ حکومت کے خلاف سازشیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں رہ کر آندھرا پردیش پر حکمرانی کرنے والے نائیڈو کو تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصولاً چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ میں بطور مہمان ہیں اور انہیں حیدرآباد پر کوئی حق حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد پر گورنر کے اختیارات کی کوئی گنجائش نہیں۔ ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ نوٹ برائے ووٹ اسکام کے حقائق عوام تک پہنچ چکے ہیں اور سطح پر عوام میں اسی اسکام کا چرچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ریاستی گورنر کا کوئی رول نہیں ہے۔ نرسیا گوڑ نے کہا کہ تمام ثبوت چندرا بابونائیڈو کے خلاف ہیں اور وہ اس اسکام میں قانونی کارروائی سے نہیں بچ سکتے۔ انہوں نے نئی دہلی کے وزیر قانون کی گرفتاری کا حوالہ دیا اور کہا کہ وزیر قانون بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ نرسیا گوڑ نے بتایا کہ ریونت ریڈی کا جو ویڈیو ٹیپ منظر عام پر آیا ہے اس میں بارہا انہوں نے چندرا بابو نائیڈو کی ایماء پر اس کارروائی کا واضح طور پر اشارہ دیا ہے۔