دفعہ 370 کے بارے میں سوال پر آر ایس ایس لیڈر برہم

نئی دہلی ۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس نے کہا ہیکہ جموں و کشمیر میں مجوزہ اسمبلی انتخابات ’’کشمیریت‘‘ کے احیاء کا ایک موقع ہے لیکن اس نے دفعہ 370 کی تنسیخ کے بارے میں تبصرہ سے گریز کیا ہے۔ آر ایس ایس لیڈر اندریش نے جسٹس (ریٹائرڈ) جی ڈی شرما کی جموں و کشمیر کی حالت زار پر لکھی گئی کتاب کی اجراء کے بعد کہا کہ 2014ء میں کھوئے ہوئے کشمیر اور کشمیریت کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا موقع تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کیلئے جو عسکریت پسندی، امتیازی سلوک اور علحدگی پسندی کا سامنا کررہے تھے، اب وقت آ چکا ہیکہ صنعتی ترقی، تعلیم اور ہندوستانی بن جائیں۔ دفعہ 370 کی تنسیخ کے بارے میں راست تبصرہ سے گریز کرتے ہوئے اندریش نے کہا کہ بی جے پی انتخابی منشور جاری کرنے والی ہے اور اس میں دفعہ 370 کے تعلق سے پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔ جب ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے بار بار اصرار کیا تو اندریش برہم ہوگئے اور ان سے سوال کیا کہ کیا آپ باغی بننا چاہتے ہیں؟ اس تقریب میں بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی بھی موجود تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دفعہ 370 ایک عارضی دفعہ ہے اور اسے مرکزی کابینہ کی قرارداد کے ذریعہ ختم کیا جاسکتا ہے۔ اندریش نے میڈیا کو خبردار کیا ہیکہ وہ سماجی کارکن اور محب وطن افراد پر دہشت گردی کا لیبل نہ لگائیں۔