سرینگر ۔ 23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے دفعہ 370 پر کسی تبصرہ سے گریز کے پس منظر میں چیف منسٹر عمر عبداللہ نے آج کہا کہ بی جے پی اس متنازعہ مسئلہ پر ٹھوس بیان دینے سے فرار اختیار کررہی ہے۔ اس کے برعکس وہ جموں و کشمیر میں دو کشتیوں میں سوار ہے جس کا نتیجہ عام طور پر غرقابی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ چیف منسٹر عمر عبداللہ نے جو نیشنل کانفرنس کے عبوری صدر بھی ہیں، بی جے پی کو ایک موقع پرست جماعت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جماعت کے ساتھ کسی طرح کے روابط استوار نہیں کئے جاسکتے۔ عمر عبداللہ نے یہ ریمارکس اس وقت کئے جب ان سے دفعہ 370 کے بارے میں بی جے پی میں پائے جانے والے تضاد کے بارے میں پوچھا گیا۔ جموں و کشمیر کو خصوصی موقف دلانے والی اس دفعہ 370 پر بی جے پی نے اسمبلی انتخابات کے دوران راست بیان دینے سے گریز کیا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ اس اہم مسئلہ سے گریز کررہے ہیں، کیونکہ یہ ان کے لئے مسئلہ بن سکتا ہے۔ جموں میں دفعہ 370 ایک قومی موضوع ہے۔ وہیں کشمیر میں اس تعلق سے خاموشی اختیار کی جارہی ہے۔ بی جے پی امیدوار یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ دفعہ 370 کو چھیڑیں گے تو ہم بندوق اُٹھالیں گے، اس طرح ریاست میں خود بی جے پی میں اس مسئلہ پر تضاد پایا جاتا ہے۔ عمر عبداللہ نے اسمبلی انتخابات کے دوران مصروف ترین پروگرام میں پی ٹی آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے بی جے پی کسی ایک موقف پر قائم رہنا نہیں چاہتی۔ وہ دو کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش کررہی ہے اور اس کا حتمی نتیجہ غرقابی ہوگا۔ نریندر مودی کل جموں علاقہ کے کشٹوار میں تھے۔
وہاں انہوں نے دفعہ 370 پر سیاسی بیان دینے سے گریز کیا تھا۔ جموں و کشمیر میں 25 نومبر سے پانچ مراحل میں رائے دہی ہوگی اور توقع ہے کہ 23 ڈسمبر کو برآمد ہونے والے نتائج معلق اسمبلی کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ عمر عبداللہ نے اس بارے میں کسی طرح کی پیش قیاسی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی پیش قیاسی نہیں کی ہے۔ یہ ان کی عادت نہیں رہی۔ اسکول میں انہوں نے امتحانی نتائج کی بھی پیش قیاسی نہیں کی تھی اور انتخابی نتائج کی پیش قیاسی نہیں کریں گے، تاہم معلق اسمبلی کی صورت میں انہوں نے یہ واضح کردیا کہ بی جے پی کے ساتھ روابط استوار نہیں کئے جائیں گے، جس نے ان پر بدعنوان ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ انتخابات کے بعد کیا ہوگا، اس بارے میں وہ پیش قیاسی کرنا نہیں چاہتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انتظار کرنا بہتر ہے۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج جو بھی سامنے آئیں گے، اس کی بنیاد پر ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہیں پتہ ہے کہ عوام میں کافی تجسس پایا جاتا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ ہم کیا کرنے والے ہیں۔ جہاں تک ان کا تعلق ہے، ایسی پارٹی جو دفعہ 370 کی تنسیخ کی بات کررہی ہے اور جسے دستور سے حذف کئے جانے کی بات کررہی ہے وہ ایک اچھوت پارٹی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس پارٹی کا یہ احساس ہے کہ وہ (عمر عبداللہ) چور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ واحد شخص ہیں بلکہ اس پارٹی نے دیگر کئی شخصیتوں پر بھی کرپشن کے الزامات عائد کئے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ بی جے پی کی طرح موقع پرست نہیں۔مہاراشٹرا میں وہ این سی پی کو نیشنلسٹ کرپشن پارٹی قرار دیا کرتی تھی اور آج اسی پارٹی کی تائید سے وہ حکومت چلا رہی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی سیاست ایسی نہیں ہے۔ اگر وہ بدعنوان ہیں تو آج سے تین ماہ تک بدعنوان ہی رہیں گے اور اگر بی جے پی چاہتی ہے کہ ایسا نہ ہو تو وہ دوستی کی کوشش کرے گی لیکن ہم ان کے ساتھ کوئی روابط استوار کرنے والے نہیں۔ وزیراعظم اور بی جے پی صدر امیت شاہ کے الزامات کے بارے میں عمر عبداللہ نے جواب دیا کہ مرکز میں بی جے پی 6 ماہ سے حکومت کررہی ہے۔ انہیں بتانا چاہئے کہ آخر ہم نے کیا چوری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ عوام کی ٹوہ میں رہنے اور فون ٹیاپنگ میں مشہور ہیں۔ انہیں یہ الزامات ثابت کرنا چاہئے۔