دفعہ 370کی تنسیخ سے بدامنی کا اندیشہ

لندن۔16نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر کے تین میعاد تک چیف منسٹر رہنے والے فاروق عبداللہ ناسازی صحت کی بناء اپنے آبائی گھر سے دور ہیں لیکن اس وقت انہیں بی جے پی کے دفعہ 370کی تنسیخ سے متعلق ناپاک منصوبوں پر انتہائی فکر لاحق ہے۔ ریاست کو خصوصی موقف فراہم کرنے والی اس دفعہ کی تنسیخ کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر بدامنی پیدا ہوگی ۔ حکمراں نیشنل کانفرنس کے 77 سالہ صدر فاروق عبداللہ نے کہا کہ وہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی مہم کی قیادت نہیں کرسکیں گے ۔ وہ گذشتہ تین ماہ سے گردے ناکارہ ہوجانے کی بناء برطانیہ میں زیر علاج ہیں ۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایک ایسے بیٹسمین ہیں جو اس وقت زیرعلاج ہیں اور فیلڈ پر آنے کیلئے بے چین ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس موقف میں شاید نہیں ہوں گے کہ آئندہ سال فروری سے قبل جموں و کشمیر واپس جائیں ۔ لیکن ان کیلئے اس وقت سب سے زیادہ تشویش بی جے پی کے ایجنڈہ پر ہے ۔ وہ دستور کی دفعہ 370کو منسوخ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جس نے ہماری ریاست کو خصوصی موقف عطا کیا ہے اور اس کا عہد گاندھی جی کے علاوہ حکومت ہند نے کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی کرسکتی ہے ۔ وہ اس حساس ریاست کو منتشر کرسکتی ہے جیسا سارے ملک میں کرچکی ہے ۔وہ کسی کے ساتھ بھی معاہدہ کرسکتی ہے ۔ انہوں نے دفعہ 370کی تنسیخ کے سنگین اثرات کے بارے میں خبردار کیا اور کہا کہ نوجوانوں کے ذہن میں بے چینی پیدا ہوگی اور ہم کبھی امن حاصل نہیں کرپائیں گے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ دفعہ 370کے بارے میں کیا وہ آر ایس ایس کی حکم کی خلاف ورزی کرپائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جس دن جموں و کشمیر کی عوام کے دلوں کی دھڑکن کو مودی سمجھ جائیں گے وہ ساری قوم کیلئے ایک بڑا دن ہوگا۔