دفعہ 341کے مسئلہ پر یونائٹیڈ مسلم مورچہ کی میٹنگ

نئی دہلی۔9 اکتوبر(سیاست ڈاٹ کام)آل انڈیا یونائٹیڈمسلم مورچہ کے قومی صدراور سابق ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر اعجاز علی کی صدارت میں مورچہ کے کور کمیٹی کی یہاں میٹنگ ہوئی جس میں آئین کی دفعہ 341 کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈاکٹر اعجاز علی نے بتایا کہ اس میٹنگ میں تحفظ معاشرہ کے سلسلے میں بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ شرکاء کی رائے تھی کہ دلتوں اور قبائلیوں کی طرح جب تک اقلیتوں کو بھی انسداد تشدد ایکٹ کے دائرہ میں نہیں لایا جائے گا اس وقت تک ان کا قانونی تحفظ ممکن نہیں ہے ۔ اور اس ایکٹ میں شمولیت کے لئے دفعہ 341میں ترمیم ضروری ہے ۔ جو سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے ۔سابق ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر اعجاز علی نے کہا کہ دفعہ 341 کا مسئلہ 2004 سے ہی سپریم کورٹ میں ہے ۔ 2011میں اس کی ‘ایشوفریمنگ’ بھی ہوچکی ہے ۔ اب اس پر صرف مسلسل بحث کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 341 میں ترمیم سے مسلمانوں کی بڑی آبادی کی تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی صورت حال میں تبدیلی آئے گی۔اس موقع پر مورچہ کے قومی ترجمان حافظ غلام سرور نے کہا کہ دفعہ 377اور دفعہ 349جیسے اہم معاملات حل ہوگئے لیکن دفعہ 341 کا معاملہ اتنے طویل عرصے میں بھی حل نہیں ہوسکا ہے ۔جبکہ یہ دفعہ ایک بہت بڑی آبادی کو متاثر کرتا ہے ۔مورچہ کے قومی جنرل سکریٹری ریاض الدین ایوبی نے کہا کہ دفعہ 341 کا معاملہ اجودھیا مسئلے کی طرح کی پرانا ہے ۔ دونوں اہم معاملات پر لوگ فیصلے کے منتظر ہیں۔اس لئے دونوں مسئلوں کو ایک ساتھ حل کیا جانا چاہئے ۔ میٹنگ میں جہانگیر عالم، ڈاکٹر سراج الدین، مولانا وصی، ابرار خان وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔