پاناجی 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج سب سے بڑے اور سب سے زیادہ طاقتور طیارہ بردار جہاز آئی این ایس وکرما دتیہ کو ہندوستانی بحریہ میں شامل کرکے قوم کے نام معنون کردیا اور کہاکہ آج کا دن ہمارے قوم کے لئے نہایت ہی اہم ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ نریندر مودی نے کہاکہ ہم کو زیادہ سے زیادہ ٹیکنالوجی کو ضروری اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ اس سے قوم کو کافی مدد ملے گی۔ اُنھوں نے یہ بھی کہاکہ ہندوستان کو دفاعی آلات و ہتھیاروں کی تیاری میں ’’خود مکتفی‘‘ ہونا چاہئے۔ نریندر مودی نے ٹوئیٹر پر لکھا ہے کہ آخر ہم کو دفاعی آلات برآمد کیوں کئے جانے چاہئے۔ ہم کو ان ہتھیاروں اور آلات کی تیاری میں ازخود قابل ہونا چاہئے۔ آخر ہم اپنی جانب سے تیار کردہ دفاعی ساز و سامان دیگر ملکوں کو کیوں برآمد نہیں کرسکتے۔ آئی این ایس وکرما دتیہ پر سوار ہوکر نریندر مودی نے مگ 29 کے لڑاکا جیٹ طیارہ میں بیٹھ کر اس کا جائزہ لیا۔ 44,500 ٹن والے آئی این ایس وکرما دتیہ کو روس سے درآمد کیا گیا ہے جو ہندوستانی بحریہ کے نئے حصول کردہ دفاعی ساز و سامان میں سے ایک ہے۔ اس حصول کے بعد ہندوستانی فوج کو ایک طاقتور علامت حاصل ہوئی ہے۔ اس جہاز کو گزشتہ سال نومبر میں اس وقت کے وزیر دفاع اے کے انتونی نے روس کے سیومش شپ یارڈ پر ہندوستانی بحریہ میں شامل کیا تھا۔ اس جنگی جہاز پر پہونچنے کے بعد وزیراعظم کو بحریہ کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور اس جہاز کے بارے میں واقف کروایا گیا۔ اُنھوں نے مگ 29 کی سواری کرتے ہوئے ساحلی گوا میں لڑاکا طیارہ کی خوبیوں سے متعلق جانکاری حاصل کی۔ وزیراعظم نے جہاز پر چند گھنٹے گزارے۔ نئے وزیراعظم کا یہ کسی دفاعی تنصیب کو پہلا دورہ ہے۔ جہاز پر ٹھہرے رہنے کے دوران جس کو روس سے 15000 کروڑ روپئے میں حاصل کیا گیا ہے، نریندر مودی نے فضائی طاقت کے مظاہرہ کا بھی مشاہدہ کیا۔ اس فضائی طاقت کے مظاہرہ میں مگ 29K سمندری لڑاکا طیارہ کے بشمول بحریہ کے مختلف طیاروں کی پروازوں کا بھی مشاہدہ کیا۔ مودی نے یہاں موجود بحریہ کے تمام سینئر عہدیداروں سے بات چیت کی۔ جہاز کے عملہ سے ملاقات کرتے ہوئے تفصیلات سے آگہی حاصل کی۔ بحری جہاز کی خریداری کا معاہدہ 2004 ء میں اُس وقت کی این ڈی اے حکومت میں ہی ہوا تھا۔ 10 سال کے وقفہ کے بعد اس جہاز کو قوم کے نام معنون کیا گیا۔ اس جہاز کو 16 نومبر 2013 ء کو ہندوستانی بحریہ میں شریک کیا گیا تھا جس کو قبل ازیں وزیر دفاع نے بحریہ کے لئے خریدا تھا۔ وکرما دتیہ پانی میں تیرنے والا طیارہ بردار جہاز ہے جس کی لمبائی 284 میٹرس اور اعظم ترین چوڑائی 60 میٹر ہے جو 3 فٹبال میدانوں کی طرح گنجائش پائی جاتی ہے۔ اس جہاز کے 20 منزل ہیں جو سب سے زیادہ اونچائی سمجھی جاتی ہے۔ اس میں جملہ 22 ڈکس اور 1600 عملہ کے ارکان ہیں۔ اس جہاز میں کھانے پینے کی اشیاء کا ذخیرہ کرنے کے تمام انتظامات موجود ہیں جس میں ایک لاکھ انڈے، 20 ہزار لیٹر دودھ اور 16 ٹن چاول فی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کی سمندر میں تقریباً 45 دن تک رہنے کی صلاحیت ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس طیارہ بردار جہاز کا معائنہ کرنے سے ایک دن قبل فوج کے تینوں خدمات کے سربراہوں سے ملاقات کی تھی جنھوں نے ملک میں پائی جانے والی سکیورٹی صورتحال سے واقف کروایا تھا۔ ان فوجی سربراہوں نے وزیراعظم کو طویل مدتی اور وسط مدتی تناظر میں دفاعی تیاری سے بھی واقف کروایا تھا۔ وزیراعظم کے آج کے دورہ کے دوران بحریہ کے سربراہ ڈیفنس سکریٹری اور مملکتی وزیر دفاع بھی شامل تھے۔