دفاعی حصولیابی کے طریقہ کار کو زیادہ سہل بنانے کی ضرورت

بنگلورو 19 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیر دفاع منوہر پریکر نے آج یہ اعتراف کیاکہ دفاعی حصولیابی کا عمل اِس وقت کافی پیچیدہ ہے اور اِسے سہل بنانے کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے اِس بات سے اتفاق کیاکہ دفاعی آلات کے حصول کا موجودہ طریقہ کار انتہائی پیچیدہ ہے۔ کانفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے زیراہتمام آج یہاں ’’میک اِن انڈیا کے لئے دفاعی حصولیابی‘‘ پر منعقدہ مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے منوہر پریکر نے کہاکہ دفاعی حصولیابی کے عمل کو زیادہ سہل بنانے کی ضرورت ہے۔ اِس معاملہ میں وقت کا تعین ہونا چاہئے اور جب ایسا کیا جائے، توقع کے مطابق نتائج برآمد ہوں گے۔ سی آئی آئی نیشنل کمیٹی برائے دفاع کے صدرنشین بابا این کلیانی نے کہاکہ ہم درحقیقت موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کیونکہ گزشتہ دو تا تین سال سے اِس سلسلہ میں صرف زبانی باتیں کی جارہی ہیں اور بہت کم عملی اقدامات ہورہے ہیں۔ اب ہمیں عملی اقدامات پر توجہ دینی چاہئے۔ اُن کی اِس توجہ دہانی پر منوہر پریکر نے کہاکہ وہ بھی اِس سے اتفاق کرتے ہیں۔ اُن کا بھی یہی خیال ہے کہ عملی اقدامات پر توجہ دینی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ کوئی بھی پالیسی خواہ ’’میک اِن انڈیا‘‘ ہو یا کوئی اور۔ تقریباً 80 تا 90 فیصد مسائل کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اب وقت آچکا ہے کہ ہم عملی کاموں پر توجہ مرکوز کریں۔ منوہر پریکر نے کہاکہ اُن کے کام کا انداز صرف بیان بازی نہیں بلکہ عملی اقدامات ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’میک اِن انڈیا‘‘ کا تصور خود اِس کا آئینہ دار ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس شعبہ میں چھوٹے اور اوسط سطح کے اداروں کی شراکت ضروری ہے۔
Su-30 جنگی طیارہ برہموس میزائیل سے مربوط

فضائیہ کے حوالہ، ایچ اے ایل کا کارنامہ
ہندوستان ایروناٹیکس لمیٹیڈ (ایچ اے ایل) نے آج پہلاسوپر سونک کروز میزائیل براہموس انٹیگریٹیڈ Su-30 طیارہ ہندوستانی فضائیہ کے حوالہ کیا۔ یہ ملک کی فضائیہ کا سب سے خطرناک طیارہ ہوگا۔ ایچ اے ایل صدرنشین ٹی سوارنا راجو نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ براہموس سوپر سونک کروز میزائیل سے مربوط کرنے کے بعد Su-30 اب انتہائی خطرناک ہتھیار بن چکا ہے۔ ایچ اے ایل نے براہموس کو Su-30 سے مربوط کرنے کے لئے تمام تجزیے پورے کرلئے اور آج ایرو انڈیا 2015 ء میں اِسے فضائیہ کے حوالہ کیا گیا۔ راجو نے کہاکہ ایچ اے ایل نے براہموس ایرو اسپیس پرائیوٹ لمیٹیڈ کو دیسی ساختہ آسان حل پیش کیا ہے۔ یہ ایچ اے ایل کیلئے قابل فخر لمحہ ہے۔ پہلے Su-30 جنگی طیارہ کو براہموس میزائیل کے ساتھ باہم مربوط کرنے میں کامیابی ڈی آر ڈی او، ایچ اے ایل اور آئی اے ایف کے مابین باہمی ربط اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا اظہار کیا۔ فلیٹ کلیرنس سرٹیفکٹ ڈاکٹر کے ٹاملمنی نے ڈی آر ڈی او ڈائرکٹر جنرل (ایروناٹیکس) نے ایرمارشل ایس بی پی سنہا ڈپٹی چیف آف ایر اسٹاف کے حوالہ کیا۔ ایر کرافٹ ایکسپٹنس سرٹیفکٹ کو اے ایم راجہ کنو، ڈی جی (ایروناٹیکل کوالٹی اشورینس) نے ایر مارشل سُکھ چین سنگھ کے حوالہ کیا۔