542 کروڑ کے صرفہ والے پراجیکٹ پر دوماہ میں کام شروع ہوجائیگا : سروئیر جنرل کا بیان
حیدرآباد 16 ڈسمبر ( پی ٹی آئی ) سروے آف انڈیا کی جانب سے جلدی ہی دریائے گنگا کے سروے اور جائزہ کا کام تقریبا 542 کروڑ روپئے کے صرفہ سے شروع کیا جائیگا جس سے اس میں پیدا ہونے والی آلودگی کا پتہ چلانے کے علاوہ اس کے طاس کا تعین کیا جاسکتا ہے ۔ ایک اعلی عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ سرویئیر جنرل آف انڈیا سورنا با راؤ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزارت آبی وسائل نے سروے آف انڈیا سے رابطہ کرتے ہوئے دریائے گنگا کے سروے کی خواہش کی ہے جس پر تقریبا 542 کروڑ روپئے کا خرچ آئیگا ۔ انہوں نے کہا کہ گنگا جیسی دریا کو صاف کرنے کیلئے سب سے پہلے آپ کو یہ معلوم کرنا ہوگا کہ آلودگی آتی کہاں سے ہے ۔ اور اس کیلئے ہمیں بڑے پیمانے پر اور تفصیلی سروے کرنے کی ضرورت ہوگی اور اس کام کی ذمہ داری سروے آف انڈیا کو دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سروے کا کام حکومت کے قومی مشن برائے گنگا کی صفائی کے حصے کے طور پر کیا جائیگا ۔ اس مشن کے تحت ہی دریائے گنگا کو صاف کرنے کا مشن شروع ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ یہ کام بالکل ابتدائی مراحل میں ہے سروے آف انڈیا نے اچھی پیشرفت کرلی ہے ۔ سروے کا کام تقریبا دو مہینوں میں شروع ہو جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ اصل کام یہ ہے کہ ساری دریائے گنگا کا سروے کیا جائے اور یہ پتہ چلایا جائے کہ آلودگی کہاں ہے اور یہ آتی کہاں سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک گھر بھی ایسا ہے جہاں سے گنگا میں آلودگی آ رہی ہے تو اس کا بھی پتہ چلایا جائے گا ۔ ہم ہر اس ادارہ کا سروے اور معائنہ کرینگے جس سے دریائے گنگا میں آلودگی پیدا ہو رہی ہے ۔ ہر گھر اور ہر صنعت کا جائزہ لیا جائیگا اور تفصیلات معلوم کی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ سروے دریائے گنگا کے اصل مقام گنگوتری سے شروع ہوگا اور اس کے خلیج بنگال میں ملنے تک کے مقام تک کا سروے کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ سروے کے کام میں گنگا کے طاس کے علاقہ جملہ 2 لاکھ کیلومیٹر کا احاطہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے سروے کا کام مکمل کرنے کیلئے دو ماہ کی مہلت دی ہے اور ہم اس کام کو اب دیڑھ سال ہی میں مکمل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سروے کے کام میں فوٹو گرافی سے لے کر دریا کی گہرائی ناپنے تک کا کام بھی شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سروے آف انڈیا کے اب تک کے پراجیکٹس 250 کروڑ کے ہیں اور آئندہ کاموںمیںعوامی ۔ خانگی شراکت کا طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے ۔