درگاہ شریف حضرت شیخ جی حالی پرصوفی بسنت فیسٹیول کا انعقاد

حیدرآباد 15فروری (پریس نوٹ) شہر حیدرآباد صوفیاء کرام کی خانقاہوں اور آستانوں سے ہمیشہ ہی معطر رہا ہے ۔ عقیدت مندان خانقاہوں اور آستانوں سے فیض حاصل کرتے رہے ہیں ۔ یہ آستانے ہندو مسلم یکجہتی اور صوفیانہ تعلیمات کے مراکز کے طور پر جانے جاتے ہیں ،شہر حیدرآباد میں صوفی ازم پر مبنی پروگرام بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوتے رہے ہیں ،اسی سلسلے کو باقی رکھتے ہوئے فعال تنظیم کل ہند مرکزی مجلس چشتیہ باشتراک کلچرل ڈیپارٹمنٹ ،انفارمیشن اینڈ تعلقات عامہ نے حضرت امیر خسرو ؒ کی ہمہ جہت شخصیت اور ان کے کارناموں کو یاد رکھنے کے لئے پچھلے کئی برسوں سے جشن امیر خسروؒ کے نام سے مناتی آرہی ہے ۔’’بسنت ‘‘ بھی حضرت امیر خسروؒ کی اپنے پیر و مرشد حضرت سلطان المشائخ سید خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی ؒ سے والہانہ محبت کی یادگار داستان ہے ،جو ہر سال بسنت یعنی ایک خاص موسم میں منایا جاتا ہے ۔ مولانا مظفر علی صوفی ابوالعلائی سجادہ نشین درگاہ حضرت شیخ جی حالی ؒ نے جہاں حضرت امیر خسروؒ کی شاعری ،موسیقی اور بھائی چارگی کے پیام کو عوام تک پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا وہیں ’’ بسنت تہوار‘‘ کا ہر سال آستانے میں اہتمام کرتے ہوئے حضرت امیر خسروؒ کی اپنے پیر و مرشد سے والہانہ محبت کے اس پیام کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کی بھرپور سعی کررہے ہیں ۔ 10فروری حضرت شیخ جی حالی ؒ کا آستانہ بسنت کے پیلے رنگ میں ڈوبا ہوا محسوس ہورہا تھا ،ہر طرف پیلے رنگوں کی بہار اور حضرت امیر خسروؒ کے بسنت پر ایجاد کردہ راگ راگنیوں پر مبنی موسیقی کی مٹھاس نے تمام عقیدتمندوں پر جیسے جادو سا کردیا تھا ۔دہلی سے خاص طور پر بسنت فیسٹیول میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لئے آئے صوفی فنکارغلام حسن خان نے راگ بہار پر مبنی گیت’’ پھول رہی سرسوں سکل بن‘‘ گاکر ایک سماں باندھ دیا ۔ان کے علاوہ مقامی فنکار عتیق حسین خان بندہ نوازی اور دوسرے فنکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور اس ’’بسنت فیسٹیول کو یادگار بنادیا ۔انٹاک نے شریمتی انورادھا ریڈی کی رہنمائی میں اس موقع پر ’’ صوفی واک‘‘ کا اہتمام بھی کیا تھا ۔ ان تمام تقاریب میں ممتاز شخصیتوں نے شرکت کی ان میں USAکونسل جنرل کیتھرائن ھڈا، کونسل جنرل ترکی جناب عدنان اتلے التینار کے علاوہ یورپ اور سنگاپور کے شہریوں نے شرکت کی ۔ مولانا سید اصغر حسینی ،مولانا خواجہ زبیر صوفی چشتی، مولانا ارشد صوفی چشتی ابولعلائی ، مولانا یوسف حسین صوفی ناگوری، جناب ذاکر علی دانش ایڈوکیٹ کے علاوہ پروفیسر لکشمی ریڈی ، اروند کمار آئی اے ایس، جناب نوین میتل آئی اے ایس ، جناب وائی ایل رائو ڈائرکٹر آئی سی سی آر، محترمہ اودیش رانی باوا، جناب اسماعیل علی خان، محترم جسوین جے رت،جناب جینت نائیڈو،محترمہ یاسمین علی بیگم جسٹس حبیب انصاری، جناب احمد اللہ ، محترمہ دلناز بیگ، مسز لکشمی دیوی راج اور دوسرے معززین نے شرکت کی ۔