اجمیر ۔ 7 مئی (سیاست ڈاٹ کام) درگاہ اجمیر شریف کے احاطہ میں دو خادموں کے ارکان خاندان کی تیز دھاری ہتھیاروں کے ساتھ جھڑپ ہوگئی۔ یہ واقعہ کل عرس تقاریب کے آخری دن پیش آیا جس کے نتیجہ میں دو افراد بری طرح زخمی ہوگئے اور درگاہ شریف کے تقدس کے ساتھ ساتھ اندرونی احاطہ میں سیکوریٹی کے تعلق سے کئی سوالات ابھر رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ دو خادموں کے ارکان خاندان کے مابین آستانے میں معمولی بات پر بحث اچانک خطرناک شکل اختیار کر گئی اور دونوں خاندانوں کے ارکان میں تیز دھاری ہتھیاروں کے ساتھ جھڑپ ہوگئی۔ بتایا جاتا ہیکہ واحد انگارا اور طارق چشتی کے خاندانوں میں پرانی مخاصمت پائی جاتی ہے۔
کل واحد انگارا کے بھتیجہ بلال اور طارق چشتی کے فرزند شاہنواز کے مابین جھڑپ ہوئی۔ جب دونوں آستانے سے باہر نکلے تب شاہنواز نے بلال کو زدوکوب کیا۔ اس کے چند منٹ کے اندر واحد انگارا کے ارکان خاندان نے شاہنواز اور ان کے بھائی وسیم کو پکڑ لیا اور بری طرح گھسیٹ کر لے گئے۔ اس جھڑپ میں تیز دھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ اجمیر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس مہندر سنگھ نے بتایا کہ دونوں طرف کے ارکان نے ایک دوسرے کے خلاف فائرنگ کے الزامات عائد کئے ہیں لیکن فائرنگ کی توثیق نہیں ہوسکی۔ بری طرح زخمی دو افراد کا علاج جاری ہے اور دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف علحدہ ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ اس دوران دیوان جی حضرت زین العابدین علی خاں نے مرکز سے درگاہ شریف میں سی آئی ایس ایف کی تعیناتی کی درخواست کی ہے۔