درشہوار چلڈرنس جنرل ہاسپٹل کا مستقبل غیر یقینی

مسئلہ بعض سیاسی ہاتھوں میں چلے جانے سے تنازعات پیدا کرنے کی کوشش
حیدرآباد 17 مارچ (سیاست نیوز) درشہوار میڈیکل ایڈ سوسائٹی کے تحت قائم کردہ درشہوار چلڈرنس جنرل ہاسپٹل پرانی حویلی کا مستقبل کیا ہوگا اس کے متعلق کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ چونکہ جب کبھی ایسے ادارے تنازعہ کا شکار ہوئے اُس وقت ان کی باگ ڈور سیاسی ہاتھوں میں چلی گئی۔ اب جبکہ مکرم جاہ ایجوکیشنل اینڈ لرننگ ٹرسٹ کی جائیدادوں کے تنازعات کا عملاً آغاز ہوچکا ہے تو اس قانونی رسہ کشی میں کس کا فائدہ ہوگا یہ کوئی نہیں کہہ سکتا لیکن دو اداروں کے جھگڑے میں تیسرا ادارہ اس دواخانہ پر نظریں رکھے ہوئے ہو،ہوسکتا ہے۔ درشہوار میڈیکل ایڈ سوسائٹی کا استدلال ہے کہ درشہوار دواخانہ جس مقام پر ہے وہ دواخانہ کی جائیداد ہے اور سوسائٹی کی جانب سے مکرم جاہ ایجوکیشنل اینڈ لرننگ ٹرسٹ کو معقول رقم بطور پیشگی ادا کرتے ہوئے قرارداد منظور کروائی جاچکی ہے لیکن مابقی رقم ادا شدنی ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جارہا ہے لیکن ٹرسٹ سے یہ جائیداد درشہوار میڈیکل ایڈ سوسائٹی کو منتقل کردی گئی جس کی بنیاد پر سوسائٹی نے کروڑہا روپئے صرف کرتے ہوئے اس پر بہترین دواخانہ تعمیر کیا ہے۔ 11 ہزار 602 مربع گز اراضی پر محیط وسیع و عریض درشہوار چلڈرنس جنرل ہاسپٹل کا قیام 1983 ء میں عمل میں آیا اور ابتداء میں یہ دواخانہ حویلی منجھلی بیگم میں درشہوار کلینک کا آغاز عمل میں آیا لیکن 1988 ء میں درشہوار چلڈرنس جنرل ہاسپٹل پرانی حویلی میں شروع کردیا گیا اور اب تک بھی دواخانہ بحسن و خوبی خدمات انجام دے رہا ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب ٹرسٹ کی جانب سے درشہوار چلڈرنس ہاسپٹل کے حصول کی کوشش اس لئے کی جارہی ہے تاکہ کسی اور تنظیم و ادارے کو یہ دواخانہ حوالے کیا جاسکے۔ ڈاکٹر فخرالدین محمد کے بموجب درشہوار چلڈرنس ہاسپٹل کی مکرم جاہ ایجوکیشنل اینڈ لرننگ ٹرسٹ کو واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا چونکہ جہاں تک انھیں علم ہے اس جائیداد کے دستاویزات سوسائٹی کے پاس موجود ہے اور ٹرسٹ کی قرارداد کی بنیاد پر ہی درشہوار ہاسپٹل کو مختلف پروفیشنل کورسیس کی اجازت حاصل ہوئی ہے۔ 1990 ء سے 2000 ء تک درشہوار چلڈرنس جنرل ہاسپٹل کے اُمور کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر فخرالدین محمد نے اس دواخانہ میں پوسٹ گریجویٹ، پیرا میڈیکل و دیگر کورسیس کا آغاز کیا اور ان کورسیس کے اجازت ناموں کے حصول کے لئے جائیداد کی ملکیت کے متعلق دستاویزات بھی متعلقہ محکمہ جات کو روانہ کئے گئے ہیں جن کے اعتبار سے درشہوار چلڈرنس ہاسپٹل جوکہ پرانے شہر میں بچوں کا منفرد و پہلا دواخانہ ہے جو بہترین خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس دواخانہ کو بچانے اور اس کی ترقی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اسے انتظامی تبدیلی سے روکنا بھی ضروری ہے۔ چونکہ ایسی صورت میں دواخانہ کی حالت ابتر ہونے کے خدشات پیدا ہوجائیں گے۔ سکریٹری مکرم جاہ ایجوکیشنل اینڈ لرننگ ٹرسٹ جناب میر کمال الدین علی خان کا ادعا ہے کہ ٹرسٹ نے یہ جائیداد فروخت نہیں کی ہے اور ٹرسٹ کی کسی بھی جائیداد کو فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ اُنھوں نے بتایا کہ قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی دواخانہ کے متعلق قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ 1988 ء میں شروع ہوئے بچوں کے اس مخصوص دواخانہ میں آج عام امراض سے متعلق تمام شعبہ جات موجود ہیں اور دواخانہ کو بہتر سے بہتر انداز میں چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسی صورت میں دواخانہ کے حالات کو بگاڑنے کی کسی بھی کوشش کی تائید نہیں کی جانی چاہئے۔