کے سی آر پر دھوکہ دہی کا الزام، سابق ایم ایل سی راملو نائک کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 17۔ اپریل (سیاست نیوز) سابق رکن قانون ساز کونسل راملو نائک نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا کہ وہ درج فہرست قبائل کو تحفظات کی فراہمی کے وعدے پر اپنے موقف واضح کریں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے راملو نائک نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر نے انتخابات سے قبل درج فہرست قبائل کو تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کرتے ہوئے دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد اس مسئلہ پر راؤنڈ ٹیبل کانفرنس منعقد کی جائے گی اور احتجاجی لائحہ عمل طئے کیا جائے گا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ درج فہرست قبائل اور ان کی تنظیمیں چیف منسٹر کی سرکاری قیامگاہ پرگتی بھون کا گھیراؤ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں اسمبلی میں قرارداد منظور کی گئی اور مرکز کو روانہ کیا گیا ۔ کے سی آر نے مرکز سے منظوری حاصل کرنے کیلئے کوئی مساعی نہیں کی۔ حالانکہ انہوں نے اس مسئلہ پر نئی دہلی میں بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو تحفظات کی فراہمی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور انہوں نے آج تک نئی دہلی میں کوئی احتجاج نہیں کیا۔ لہذا درج فہرست قبائل میں حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن کا فیصلہ کیا ہے ۔ راملو نائک نے کہا کہ چیف منسٹر کو وضاحت کرنی چاہئے کہ ایس ٹی تحفظات پر ان کی حکومت کا کیا موقف ہے۔ جسٹس چلپا کمیشن کی رپورٹ کو حکومت نے برفدان کی نذر کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کے بغیر ایس ٹی طلبہ کو بھاری نقصان ہورہا ہے ۔ ڈاکٹرس اور سیول سرویسز میں ایس ٹی امیدوار تحفظات کے بغیر منتخب ہونے سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کمزور طبقات کو محض ووٹ بینک کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔