درج فہرست ذات و قبائل ایکٹ کیخلاف مہاجن کے گھر کے باہر مظاہرہ

اندور،19ستمبر(سیاست ڈاٹ کام)مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں آج ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے درج فہرست ذات و قبائل ترمیمی ایکٹ کے خلاف لوک سبھا اسپیکر ستمرا مہاجن کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی مٖظاہرہ کیا۔ اعلی ذات کے بینر کے تحت پہنچے ان لوگوں نے محترمہ مہاجن کی غیر موجودگی میں ان کے ایک نمائندے کو میمورینڈم سونپا۔ہزاروں کی تعداد میں پہنچ مظاہرین کے ہاتھوں میں مرکز اور ریاستی حکومت کے خلاف نعرے لکھی تختیاں تھیں۔اس دوران مظاہرین نے شنخ اور ڈھول بجا کر احتجاج درج کرایا۔ مظاہرے کی قیادت وکاس اوستھی نے نامہ نگاروں سے کہا کہ اس ایکٹ کو سپریم کورٹ نے عدلیہ کے جائزہ کرنے کے بعد ہی اس میں ترمیم کرنے کا التزام کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ مانا تھا کہ بغیر جانچ کے ایکٹ کے تحت گرفتاری سے ایکٹ کا غلط استعمال ہورہا ہے ۔انہوں نے حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپنا دلت ووٹ بینک بچانے کی خاطر ملک کے اقلیتی غیر دلت سماج کو حاشیے پر رکھ دیا۔ وہیں اڈیشنل ضلع مجسٹریت راکیش شرما نے بتایا کہ مظاہرے کے سلسلے میں کل شام سے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے پیغامات کے بعد مقامی ضلع اور پولیس انتظامیہ نے محترمہ مہاجن کے گھر کو آج صبح سے ہی سکیورٹی کے گھیرے میں لے لیا تھا۔اسی کے پیش نظر آج صبح محترمہ مہاجن کے گھر سے تقریباً 100میٹر دور مظاہرین کو روک دیا گیا تھا۔ محترمہ مہاجن آج صبح ہی دہلی روانہ ہوگئی تھیں۔ احتجاج کر نے والوں نے اس ایکٹ کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت اس قانون کو جوں کا توں کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔