دال پانی کی طرح ، کھانا چبایا نہیں جاتا

طلباء کے لیے فراہم کیا جانے والا کھانا کنڈیوں میں پھینک دیا جاتا ہے !
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اکٹوبر : ( نمائندہ خصوصی ) : حکومت نے ریاست میں غریب خاندانوں کے بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے ریاست میں ناخواندگی کی شرح کو گھٹانے اور بچوں کی جسمانی صحت کو بہتر بنانے کے مقاصد کے تحت اسکولوں میں دوپہر کے کھانے کی اسکیم مڈ ڈے میل کا آغاز کیا تھا اسکیم کے نام پر دال اور چاول سربراہ کیا جارہا ہے ۔ اس کا مقام کچرے کی کنڈی ہو کر رہ گیا ہے ۔ کئی اسکولوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ شائد اس کھانے سے بہتر کھانا جیل میں موجود قیدیوں کو سربراہ کیا جاتا ہے چونکہ اسکول کا کوئی طالب علم اس کھانے کو استعمال کرنے تیار نہیں ہے ۔ ایک اسکول کے ایچ ا یم نے بتایا کہ اسکولوں میں 12 بجے کے قریب کھانا پہنچایا جاتا ہے ۔ اور اسکول چھوٹنے سے قبل اس دال چاول میں بدبو شروع ہوجاتی ہے ۔ حکومت کی جانب سے چند کروڑ خرچ کرتے ہوئے اس طرح کی اسکیمات کا آغاز تو کردیا جاتا ہے لیکن ان اسکیموں پر نگرانی نہ ہونے کے باعث پکوان کا کنٹراکٹ لینے والے اپنی مرضی کے مطابق کھانا سربراہ کرنے لگتے ہیں ۔ حیدرآباد شہر کے بیشتر سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل اسکیم پر عمل آوری کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ طلباء اس کھانے کو پسند ہی نہیں کررہے ہیں اور یہ اسکیم محض برائے نام ہو کر رہ گئی ہے ۔ صبح کا پکا ہوا کھانا دوپہر میں اسکولوں کو سربراہ کیا جاتا ہے جو چاول پکوان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے وہ کافی موٹا ہوتا ہے جو کھانے لائق ہی نہیں ہوتا ۔ یہ کھانا کھا کر تو بچوں کے جبڑے درد ہوجاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کھانے کے ساتھ فراہم کی جانے والی دال پانی کی طرح ہوتی ہے ۔ اس کھانے سے اسکولی طلباء کی صحت بنے گی تو نہیں ہاں ضرور بگڑ جائے گی ۔ اسکولی طلباء کو سربراہ کیا جارہا چاول اگر کوئی وزیر کھالے تو ان کے دانت ہلنے لگیں گے ۔ دراصل مڈ ڈے میل اسکیم سال 1960 میں اسکولوں میں متعارف کی گئی تھی ۔ جس کے مقاصد غریب اسکولی طلبا کو دوپہر میں مفت کھانا فراہم کرنا ، غریب خاندانوں کو اپنے بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنا ، بچوں میں تعلیم کے تئیں دلچسپی پیدا کرنا ، معیاری غذا فراہم کر کے بچوں کی صحت کو بہتر بناتے ہوئے انہیں امراض سے محفوظ رکھنا اور مڈ ڈے میل کی تیاری کی ذمہ داری خواتین کے سپرد کر کے انہیں خود مکتفی بنانا ہے ۔ سب سے پہلے ٹاملناڈو میں یہ اسکیم متعارف کی گئی جہاں اسکیم کا بہتر ردعمل دکھائی دینے پر سپریم کورٹ نے سارے ملک میں اس کو متعارف کرنے کی حکومت کو ہدایت دی ۔ بعد ازاں اسے مڈ ڈے میل اسکیم کا نام دیا گیا اور دیگر ریاستوں نے بھی اسے اپنایا جن میں ریاست آندھرا پردیش اور تلنگانہ بھی شامل ہے ۔ اسکیم کو متعارف کرنے کے باوجود ملک میں بچوں میں بھک مری کا مسئلہ برقرار ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 5 برس کی عمر کے 42.5 فیصد بچے کم وزن ہے ۔ تغذیہ بخش غذا کی عدم فراہمی اس کی اہم وجہ بتائی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ دنیا میں شدید بھک مری والے ملکوں میں ہندوستان بھی شامل ہے ۔ جہاں 200 ملین عوام بھک مری کا شکار ہیں ۔ پتہ نہیں حکومت کو فلاحی اسکیمات شروع کرنے کا مشورہ دینے والے قابل ترین افراد اسکیم کو متعارف کرنے کے ساتھ اس پر بہتر اور شفاف طریقہ سے عمل آوری کی میکانزم کو بھی روبہ عمل لانے کا مشورہ کیوں نہیں دیتے ؟ فلاحی اسکیمات شروع کردی جاتی ہیں لیکن اس کے مقاصد پورے نہیں ہوپاتے بلکہ اس کے منفی اثرات ہی سامنے آنے لگتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی حکومت سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل کی اسکیم کو منظوری دے کر اپنا دامن جھاڑ لینے کے بجائے طلباء کو معیاری اور تغذیہ بخش غذا کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ بچے اسکول کا کھانا کھا کر بیمار پڑنے اور اسکول چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں ۔۔