داعش کے کٹر حامی عارف مجید کی این آئی اے تحویل میں توسیع

تحقیقاتی ایجنسی کی درخواستوں میں الفاظ کی غلطیوں پر عدالت کی سرزنش

ممبئی ۔ 8 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ عراق و شام
(ISIS) کے کٹر حامی عارف مجید کی نیشنل انویسٹگیشن ایجنسی (INA) کی تحویل میں 22 ڈسمبر تک توسیع دی گئی ہے ۔ مجید کو 28 نومبر کے دن گرفتاری کے بعد این آئی اے کی خصوصی عدالت نے آج تحقیقاتی ادارہ کو تحویل میں دیا تھا ۔ این آئی اے نے آج عدالت کو بتایا کہ تحقیقات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور اس نے مزید پوچھ تاچھ ضروری ہے ۔ خصوصی عدالت میں این آئی اے نے بتایا کہ کچھ ڈاٹا (تفصیلات) آن لائین دستیاب ہوئی ہیں اور مزید ڈاٹا حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ تاہم سرویس سپر وائزرس نے جو اطلاعات فراہم کی ہیں اس کے تقابل کیلئے عارف مجید سے پوچھ تاچھ کی ضرورت ہے جبکہ مجید کے وکیل وہاب خاں نے این آئی اے کسٹڈی کی مخالف نہیں کی ہے اور ایک عرضی پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملزم مزید کوئی اقبال جرم نہیں کرنا چاہتا ۔ تاہم وہاب نے ایک عرضی داخل کرتے ہوئے میڈیا کو اطلاعات کا افشاء کرنے پر این آئی اے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ بعد ازاں این آئی اے نے ایک درخواست میں کہا کہ وہ بعض سی ڈیز پیش کرنا چاہتے ہیں جو کہ مجید کے ای میل سے ڈاؤن لوڈ کیا گیا مواد ہے۔ دریں اثناء خصوصی عدالت کے جج شنڈے نے آج درخواستوں میں الفاظ کی غلطیوں پر ایجنسی کی سرزنش کی اور بتایا کہ درخواستوں میں کئی ایک غلطیاں gmail کی بجائے gamail اور Contents کی بجائے Contains تحریر کیا ہے ۔ انہوں نے تحقیقاتی عہدیداروں سے کہا کہ ایک ٹیچر کی خدمات حاصل کر کے انگریزی سیکھیں۔ عدالت میں مجید نے اپنا نام بتایا اور یہ دریافت کرنے پر کہ این آئی اے کے خلاف اسے کوئی شکایت ہے۔ انہوں نے منفی جواب دیا۔ ممبئی کے مضافات کلیان 23 سالہ نوجوان عارف مجید کی 28 نومبر کو عراق سے آمد کے بعد این آئی اے نے فی الفور اسے حراست میں لے لیا اور مختلف واقعات کے تحت کیس درج کر کے پوچھ تاچھ کی تھی ۔ پولیس کے بموجب عراق میں مقدس مقامات پر حاضری دینے 22 زائرین کا ایک گروپ 23 مئی کو ممبئی سے روانہ ہوا تھا جس میں انجنیئرنگ کے 4 طلباء بھی شامل ہیں ۔ دوسرے دن عارف نے بغداد سے اپنے والدین کو فون کر کے بغیر اطلاع روانہ ہوجانے پر معذرت خواہی کی تھی۔ مذکورہ زائرین نے ہندوستان واپس ہونے کے بعد پولیس کو بتایا عارف ، فہد ، امان اور شاہین ایک کرایہ ٹیکسی میں عراقی شہر فلوجہ کیلئے روانہ ہوئے جو کہ ان دنوں داعش کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے جبکہ شاہین نے 26 اگست کو عارف کے والدین کو فون پر بتایا ان کا لڑکا شہید ہوگیا ہے وہ شام میں آئی ایس آئی ایس کی جانب سے لڑتے ہوئے جاں بحق ہوگیا، جس کی اطلاع پر والدین نے عارف کی نماز جنازہ غائبانہ کا اہتمام کیا تھا ۔ تاہم حال ہی میں عارف کے والد اعجاز مجید نے این آئی اے کے عہدیداروں سے ملاقات کر کے بتایا کہ عسکریت لیڈروں کی جانب سے تقریباً 3 ماہ تک لڑنے کے بعد ان کا لڑکا فرار ہونے میں کامیاب ہوتیا ہے ۔