داعش پرانسانیت مخالف جرائم کے الزامات پر امکانی مقدمہ

جنیوا۔ 15 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) شام میں جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے کہا ہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) نے اپنے کنٹرول والے علاقوں میں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے جمعہ کو شام میں داعش کی چیرہ دستیوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ جاری کی ہے اور اس میں داعش کے عمل داری والے علاقوں میں زندگی کی بڑی ہولناک تصویر پیش کی ہے۔ یہ رپورٹ ان علاقوں سے زندگیاں بچا کر بھاگنے والے 300 افراد کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔اقوام متحدہ کے پیانل نے کہا ہے کہ داعش کے تحت لوگوں پر دہشت کے ذریعے حکمرانی کی جارہی ہے،ان کا قتل عام کیا جارہا ہے،سرقلم کئے جارہے ہیں،عورتوں کو باندیاں بنایا جارہا ہے اور انھیں جبری طورپر حامل کیا جارہا ہے تاکہ وہ جہادی بچے جنیں۔رپورٹ کے مطابق داعش کے کمانڈر ان جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے ارتکاب کے ذاتی طور پر ذمے دار ہیں۔پیانل نے جرائم میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش نے شام اور عراق میں لاکھوں افراد تک خوراک اور ادویہ نہیں پہنچنے دی ہیں۔داعش اپنے کنٹرول والے علاقوں میں دہشت کے ذریعے شہریوں کو اپنی رعایا بنائے رکھنے پر مجبور کررہی ہے اور زندگی کے ہر پہلو میں اپنا غلبہ چاہتی ہے۔ داعش کے خلاف امریکہ کی قیادت میں عالمی اتحاد نے فضائی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔