قاہرہ۔ 16 فبروری ۔ (سیاست ڈاٹ کام) خطرناک تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ (داعش ) نے دل دہلادینے والا ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں 21 مصری قبطی عیسائیوں کے لیبیا میں سرقلم کرتے دکھایا گیا ہے ، جبکہ مصر نے آج جنگی طیارے بھیج کر سرحد پار تیز تر جوابی کارروائی میں آئی ایس (دولت اسلامیہ ) کے ٹھکانوں پر بمباری کی ، جس نے مصر کو پہلی بار راست طورپر عسکریت پسندی کی وجہ سے اُتھل پتھل سے دوچار کردیا ہے ۔ ان 21 مصری قبطی عیسائیوں کو ایک ماہ قبل لیبیا سے اغوا کیا گیا تھا۔ مصر نے برسرعام لیبیا میں ملٹری کارروائی کرنے کا اعتراف کرلیا جیسا کہ جنگی طیاروں نے اس دہشت گرد تنظیم کے ٹریننگ کیمپ اور کئی اسلحہ ڈپو کو طلوع آفتاب کے وقت نشانہ بنایا اور پھر دوپہر میں بھی دھاوے کئے ۔ اس ملک نے آئی ایس کے خلاف لیبیا میں بین الاقوامی مداخلت پر بھی زور دیا اور امریکہ زیرقیادت اتحاد جو عراق اور شام میں عسکریت پسندوں سے لڑ رہا ہے ، اُس سے بھی اپیل کی کہ اپنی کارروائی کو وسعت دیتے ہوئے ان عسکریت پسندوں کی سرگرمی کے نئے علاقوںکو بھی شامل کرلیں ، جس سے اُجاگر ہوتا ہے کہ کس طرح یہ دہشت گرد گروپ عرب دنیا میں اپنی رسائی پھیلا رہا ہے ۔ سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ جنگی طیاروں نے فضائی حملوں کی دوسری لہر کے دوران لیبیا کے مشرقی ساحلی شہر دارنا اور اس کے مضافات کو نشانہ بنایا ۔ حملوں کے پہلے راؤنڈ میں بھی تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک میں انتہاپسندوں کے گڑھ دارنا کو نشانہ بنایا گیا ، جہاں داخلی بدامنی نے گروپوں کیلئے آماجگاہیں پیدا کردی ہیں۔یہ مصری کارروائی اُس 5 منٹ طویل گھناؤنے ویڈیو کے جواب میں کی گئی ، جس میں ہاتھ بندھے اور نارنجی جمپ سوٹس میں ملبوس یرغمالیوں کو دکھایا گیا ،جنہیں سیاہ نقاب پوش دہشت گرد لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے قریب ساحل سمندر پر قتل کررہے ہیں۔ ویڈیو جھلکی کے اختتام پر ایک عسکریت پسند کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ’’یہ سمندر جس میں تم لوگوں نے شیخ اسامہ بن لادن کی نعش پوشیدہ کردی ہے، ہم اللہ کی قسم کھاتے ہیں، اس میں تمہارا خون شامل کردیں گے‘‘۔ سرقلم کرنے کا یہ واقعہ اس بنیاد پرست گروپ کے زیرقبضہ شام اور عراق کی سرزمین کے باہر اپنی نوعیت کا اولین واقعہ ہے۔ مصری فوج کے ترجمان محمد سمیر نے ایک بیان میں کہا کہ قاتلوں اور مجرموں سے مصری خون کا انتقام لیا جائے گا۔ نفاذِ قانون مصر کا حق ہے۔ ہر ایک کو معلوم ہوجانا چاہئے کہ مصر کے پاس ڈھال ہے جو اپنی صیانت کی حفاظت کرتی ہے اور ایک تلوار ہے جو دہشت گردی کا سَر کاٹ دیتی ہے۔ ویڈیو فلم کے اجراء کے چند گھنٹوں بعد نیشنل ٹی وی پر خطاب میں صدر مصر عبدالفتح السیسی نے کہا کہ ان کا ملک جوابی کارروائی کے مقام اور وقت کے انتخاب کا حق رکھتا ہے اور قاتلوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ مصر ضروری وسائل اور مناسب وقت کا خود انتخاب کرے گا اور مجرمانہ ہلاکتوں کا انتقام لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مصر دہشت گردی کو شکست دے سکتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف اپنا دفاع ہوگا بلکہ پوری انسانیت کا بھی دفاع ہوگا۔ عیسائیوں کے سر قلم کرنے کو ’’زہریلی کارستانی‘‘ قرار دیتے ہوئے السیسی نے کہا کہ دہشت گردی کی ایک لہر پوری دنیا میں پھیل رہی ہے اور عالم انسانیت سے مطالبہ کیا کہ سب لوگوں کو متحدہ طور پر اس کے خلاف جنگ کرنا چاہئے۔ اپنے خطاب میں السیسی نے مقتولین کے ارکان خاندان کو تعزیت پیش کی اور کہا کہ حکومت ، مصری شہریوں کے لیبیا کا سفر کرنے پر امتناع عائد کرے گی اور جو لوگ وہاں موجود ہیں انہیں واپس طلب کرے گی۔ السیسی نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تاکہ لائحہ عمل کا تعین کیا جاسکے۔ انہوں نے وزیر خارجہ کو ہدایت دی کہ نیویارک جاکر ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے موضوع پر چوٹی کانفرنس میں شرکت کریں۔ 21 مصری عیسائیوں کے سر قلم کرنے کے واقعہ پر ملک میں 7 یوم کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارہ ’’مینا‘‘ نے کہا کہ قبطی گرجا گھر کے ترجمان نے یقین ظاہر کیا کہ 21 مصری عیسائیوں کے خون کا بدلہ دولت اسلامیہ سے لیا جائے گا۔ سُنّی مسلمانوں کی اعلیٰ ترین دینی درسگاہ جامعہ الازہر نے اس ’’بربریت انگیز‘‘ کارروائی کی مذمت کی ہے۔ جامعہ الازہر کو بے قصور مصریوں کے ایک گروپ کے قتل کی اطلاع پر انتہائی رنج و غم ہوا ہے۔اقوام متحدہ سکریٹری جنرل بان کی مون نے ان ہلاکتوں کی مذمت کی ، جس سے ایسا شبہ اُبھرتا ہے کہ اس عسکری گروپ نے جنوبی اٹلی سے قریب کوئی راست ملحقہ عنصر قائم کرلیا ہے ۔ ویڈیو میں ایک عسکریت پسند نے اس اندیشہ کا راست حوالہ دیتے ہوئے کہا ، ’’یہ گروپ اب روم فتح کرنے کے منصوبے رکھتا ہے‘‘۔ مصر کے قبطی عیسائی مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی عیسائی اکثریت ہے۔ ایک تخمینہ کے بموجب وہ مصر کی جملہ آبادی کا 10 فیصد ہیں۔ ہزاروں مصری لیبیا میں کام کیلئے 2011ء میں جبکہ مصر میں بغاوت ہوئی تھی، منتقل ہوچکے ہیں، اس کے باوجود کہ مصری حکومت نے مشورہ دیا تھا کہ وہ لیبیا سے دُور رہیں۔