واشنگٹن ۔ 16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی ریاست فالوراڈو کی تین 20 سال سے کم عمر کی لڑکیوں نے کچھ عرصہ قبل دولت اسلامیہ العراق و شام (داعش) کے انتہاء پسند بھرتی کنندگان کے ساتھ ٹوئیٹر پیامات پر اپنے مذہب اور شادیوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا اور خاموشی کے ساتھ اپنے پاسپورٹ اور ہزاروں ڈالر پر مشتمل مسروقہ رقم لے کر شام روانہ ہوگئیں لیکن حکام نے انہیں جرمنی میں روک لیا اور کوئی جرمانہ الزامات عائد کئے بغیر انہیں ان کے خاندانوں کے حوالے کردیا۔ یہ واقعہ اور ایسے ہی دیگر کئی واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ انتہاء پسند گروپ داعش صرف مرد جنگجوؤں کو ہی نہیں بلکہ خواتین اور لڑکیوں کو بھی انتہائی عصری ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اپنے پروپگنڈہ کا نشانہ بنارہا ہے۔ سوشل ویب سائیٹس پر یہ انتہاء پسند نہ صرف اپنے لئے بیویاں تلاش کررہے ہیں بلکہ عراق اور شام پر اپنی خلافت کے قیام کے بعد ایک نیا سماج بنانے کی کوششوں میں ڈاکٹرس،
انجینئرس، اکاونٹنس اور دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ وروں کو بھی ترغیبات دے رہے ہیں۔ اس قسم کی بھرتیوں کو روکنے کیلئے مغربی حکومتیں اپنی کوششوں میں مصروف ہیں۔ داعش کیلئے بھرتی ہونے والی کالوراڈو کی ایک لڑکی شینون کان لی نے جس کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ آئندہ مہینے تک قید میں رہیں گی۔ بحیثیت نرس اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعہ شام میں لڑنے والے جنگجوؤں کی مدد کرنا چاہتی تھی۔ اس گروپ نے سوشل میڈیا کے ذریعہ سائرن جیسا ایک ترانہ بھی جاری کیا ہے جس کا مقصد اپنی نام نہاد و خودساختہ خلافت کیلئے لوگوں راغب کرنا ہے۔
فیڈرل بیورو آف انوسٹیگیشن (ایف بی آئی) کے ڈائرکٹر جیمس کامی نے اخباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف کیا اور کہا کہ ’’اور ان لوگوں میں جنہیں وہ بھرتی کرنا چاہتے ہیں، نوجوان خواتین بھی ہیں۔ بھرتی ہونے والی ان خواتین کو ان جہادیوں کی دلہنیں بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں‘‘۔ داعش اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے رہا ہے۔ لڑائی کیلئے بچوں کو ترغیب دے رہا ہے، جہاد کیلئے مغربی ملکوں کے افراد کی بھرتیاں کی جارہی ہیں اور اپنے یرغمالیوں کے سر قلم کرتے ہوئے ویڈیو ٹیپس جاری کررہے ہیں جس سے اس گروپ کے خطرناک پرتشدد ارادوں کے بے نقاب ہونے سے صدمہ تو ہوتا ہے لیکن یہ تنظیم انسانی پہلوؤں کو بھی اپنے پروپگنڈہ میں استعمال کررہی ہے مثلاً شام کے ان دیہاتوں کی تصویریں ویب سائیٹس پر پیش کی جارہی ہیں
جس پر شامی افواج نے بمباری کی تھی۔ علاوہ ازیں ان بچوں کی مسکراتی ہوئی تصویریں بھی پیش کی جارہی ہیں جنہیں وہ ویزا اور کھلونے بھی فراہم کررہے ہیں۔ ایسے بچوں کو خوشحال خاندان کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جس کا مقصد ان کی مملکت میں بیویوں اور ماؤں کے رول کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کہا کہ اگر وہ تشدد کا پرچار بھی کرتے ہیں تو وہ پرجوش ہونے کے ساتھ پرسکون بھی نظر آتے ہیں۔ ان کے ایک ہاتھ میں بندوق ہوتی ہے تو دوسرے ہاتھ میں بلی کے بچے بھی دیکھے گئے ہیں۔