داعش میں شامل برطانوی دوشیزہ کی مغربی شہریوں کو قتل کی دھمکی

لندن، 25 اگست (سیاست ڈاٹ کام) شام میں صدر بشارالاسد کیخلاف عوامی بغاوت کی تحریک کی کھلی حمایت کرنے والے مغربی ممالک اب اس خانہ جنگی کی تپش اپنے ہاں بھی محسوس کرنے لگے ہیں۔ یورپی ملکوں سے مرد و خواتین کی بڑی تعداد کے شام کے محاذ جنگ پر چلانے کے بعد اب مغرب کو اب اپنی بقا ء اورسلامتی کی فکر لاحق ہو چکی ہے کیونکہ ان کے اپنے شہری شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) میں شامل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ حال ہی میں خدیجہ داری نامی لڑکی کا مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر بڑا چرچا ہو رہا ہے جو برطانیہ میں قبول اسلام کے بعد شام کے محاذ جنگ پر چلی گئی تھی۔ اب اس نے داعش میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور ساتھ ہی مغربی باشندوں کے سر قلم کرنے کی بھی دھمکی دے رہی ہے۔ میڈیا کو برطانوی دوشیزہ کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اس کے بارے میں زیادہ تر معلومات انٹرنیٹ ہی سے دستیاب ہوسکی ہیں۔ ان معلومات کے مطابق خدیجہ داری کا تعلق برطانیہ کے لیویشام شہر سے ہے۔ اس نے چند سال پیشتر اسلام قبول کیا۔ اس کی ایک مسلمان نوجوان سے شادی بھی ہوئی تھی جس سے اس کا ایک بچہ ہے لیکن بعد ازاں دونوں میں طلاق ہو گئی تھی۔ 2012ء میں اس کے بچے کی عمر محض دو برس تھی، اور وہ اپنے شیر خوار بچے کے ہمراہ شام چلی گئی اور وہاں اس نے داعش میں شمولیت اختیار کی۔ داعش کی جنگجو خواتین نے خدیجہ کو بھی عسکری تربیت دی۔ برطانوی حکومت اورعوامی حلقوں میں ان دنوں خدیجہ داری اور دیگر برطانوی شہریوں کی داعش میں شمولیت کے چرچے عام ہیں۔ برطانوی حکومت کیلئے یہ ایک بڑا دھکہ ہے کہ مردوں کے ساتھ خواتین بھی داعش کی صفوں میں گھس رہی ہیں۔ 22 سالہ خدیجہ کے بیٹے کی عمر اب چار سال ہے۔ حال ہی میں اس نے انٹرنیٹ پر اپنی اور بیٹے کی تصاویر پیش کی ہیں۔ خدیجہ نے سیاہ رنگ کے برقعے سے اپنا چہرہ مکمل ڈھانپ رکھا ہے اور بندوق سے نشانہ بازی کی مشق کر رہی ہے جبکہ چار سالہ بیٹے نے بھی کلاشنکوف اٹھا رکھی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خدیجہ شام میں داعش کے کسی جنگجو کے ساتھ شادی کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا اس نے کسی اور مرد سے شادی کی ہے یا نہیں۔