دارالقضاۃ ریکارڈ کے تحفظ میں تساہل برتنے والے افراد کے تبادلے

حیدرآباد ۔ 11 ۔ مارچ (سیاست نیوز) اسپیشل آفیسر وقف بورڈ نے دارالقضاۃ کے ریکارڈ کے تحفظ میں تساہل برتنے والے افراد کے تبادلے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے تادیبی کارروائی کو منظوری دیدی جس کے تحت محکمہ قضاۃ کے تین ملازمین کا وقف بورڈ کے دوسرے سیکشنوں میں تبادلہ کردیا جائے گا اور ریکارڈ سیکشن میں موجود دو اٹینڈرس کو بھی خدمات سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کی جگہ وقف بورڈ کے دیگر ملازمین کا تقرر کیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ روزنامہ سیاست دارالقضاۃ کے اہم ریکارڈ کو کچرہ دان کی نذر کرنے کا معاملہ تصویر کے ساتھ بے نقاب کیا تھا ۔ حالیہ عرصہ کے ریکارڈ کو متعلقہ عملہ نے محفوظ کرنے کے بجائے کچرے دان میں ڈال دیا تھا۔ حکام کی اس لاپرواہی کا سخت نوٹ لیتے ہوئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ نے متعلقہ افراد کو وجہ نمائی نوٹس جاری کی تھی ۔

جواب ملنے کے بعد اسپیشل آفیسر نے بڑے پیمانہ پر تبادلوں کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر سلطان محی الدین نے بتایا کہ دارالقضاۃ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین فاروق عارفی ، شیخ داؤد اور رحمن شریف کا دوسرے سیکشنوں میں تبادلہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ناظر قضاۃ قاضی اکرام اللہ چونکہ وقف بورڈ کے ملازم نہیں ہیں لہذا انہیں وقف بورڈ کے امور میں مداخلت سے باز رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وہ قاضی ویلفیر اسوسی ایشن کے نمائندہ کی حیثیت سے دارالقضاۃ میں موجود ہیں اور وہ کسی بھی فائل اور ریکارڈ کو دیکھنے کے مجاز نہیں ہوں گے ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے بتایا کہ ناظر قضاۃ کی ذمہ داریوں کو صرف نگرانی تک محدود کردیا گیا ہے۔

ان کے مطابق قضاۃ کے ریکارڈ سیکشن کے اٹینڈرس محمد رفیع اور اصغر علی کو بھی دوسرے سیکشنوں میں منتقل کردیا جائے گا اور ان کی جگہ نئے اٹینڈرس کا تقرر ہوگا۔ اسپیشل آفیسر نے قضاۃ کے ریکارڈ کے تحفظ کے لئے زائد ملازمین کی ٹیم تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ریکارڈ کا تحفظ ہو۔ قضاۃ کے علاوہ دیگر سیکشنوں میں بھی بڑے پیمانہ پر تبادلوں کا امکان ہے۔ دارالقضاۃ میں ریکارڈ کو تلف کئے جانے کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد مختلف عوامی اور سماجی تنظیموں نے وقف بورڈ کے عہدیداروں سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ قاضیوں کی تنظیموں نے بھی ریکارڈ محفوظ کرنے میں متعلقہ حکام کی لاپرواہی پر افسوس کا اظہار کیا ۔