نئی دہلی۔ 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں دہشت گردی کو اسپانسر کرنے کا پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہمارا پڑوسی ملک داؤد ابراہیم کو پناہ دے رہا ہے اور یہ انڈر ورلڈ ڈان اس وقت پاک ۔ افغان سرحد سے متصل علاقہ میں روپوش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچیکہ ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو استوار کرنے کی خواہش کی ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کو دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں دلچسپی نہیں ہے۔ ہندوستان ٹائمز لیڈرشپ چوٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان میں ہونے والی دہشت گردی یہاں کی پیداوار نہیں ہے بلکہ یہ باہر کی امداد سے ہورہی ہے۔
خاص کر پاکستان سے اس کو اسپانسر کیا جارہا ہے۔ ہندوستان میں ہونے والی دہشت گردی خالصتاً پاکستان کی اسپانسر کردہ ہے۔ آئی ایس آئی بھی اس دہشت گردی کی سرپرستی کررہی ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان نے اب تک 2008ء ممبئی بم حملوں کے خاطیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ اس ملک میں دہشت گردی کا مقدمہ سست روی سے جاری ہے۔ پاکستان عدالتی عمل میں بھی مدد نہیں کررہا ہے بلکہ وہ ممبئی حملوں کے خاطیوں کو بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق داؤد ابراہیم اس وقت پاکستان میں موجود ہے اور وہ افغان سرحد پر روپوش ہوگیا ہے۔ ہماری جانب سے متواتر درخواستوں کے باوجود داؤد ابراہیم کو ہندوستان کے حوالے نہیں کررہا ہے۔
جب وزیراعظم پاکستان یہاں آئے تھے، ہمارے وزیراعظم نے ان سے داؤد ابراہیم کو حوالے کرنے سے متعلق بات کی تھی۔ ہم اس سلسلے میں پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم سفارتی دباؤ بھی بنائے ہوئے ہیں، کیونکہ وہ ایک سب سے زیادہ شدت سے مطلوب مجرم ہے۔ فی الحال داؤد ابراہیم پاک۔ افغان سرحد کے قریب موجود ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آیا ہندوستان کی جانب سے داؤد ابراہیم کو لانے کے لئے گرماگرم یا سخت کوشش کی جائے گی، راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہم کو کچھ وقت دیجئے، براہ کرم اس خصوص میں انتظار کیجئے، ہم اپنی حکمت عملی کو آشکار نہیں کرسکتے۔ اس سلسلے میں کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے، لیکن ہم اس بات کی مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان داؤد ابراہیم ہمارے حوالے کردے۔
دفعہ 370 انتخابی موضوع نہ ہونے کا اشارہ
بی جے پی دفعہ 370 کی تنسیخ کو جموں و کشمیر انتخابات میں موضوع نہیں بنائے گی ۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج یہ اشارہ دیا اور کہا کہ حریف جماعتیں اس مسئلہ پر نفسیاتی خوف پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کے جواز پر اندرون ریاست اور سارے ملک میں مباحث ہونے چاہیں ۔ یہاں جمہوریت ہے اور ہر موضوع پر مباحث ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں دہشت گردی کو مکمل طور پر پاکستانی سرپرستی ہے ۔ ہندوستان اگرچہ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اسلام آباد کو پہل کرنی چاہئے ۔ ہندوستان ٹائمز کی لیڈر شپ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج نہیں تو کل کسی ایک کو آگے بڑھنا ہوگا ۔ ہم نے ہمیشہ دوستی کی بات کی ہے اور انہیں بھی کچھ دوستانہ تقاضے پورے کرنا ہوگا ۔۔