خوف کا ماحول

خوف و دہشت کے تلے جب اس طرح گزریں گے دن
کیوں نہ ماضی کے سنہرے دن ہمیں یاد آئیں گے
خوف کا ماحول
خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے والے سیاستدانوں اور ان کے لفافہ بردار میڈیا گھرانوں نے آسام کے این آر سی مسئلہ پر ایک ایسا سنگین ماحول تیار کرلیا ہے کہ اس میں مسائل ہی مسائل پیدا ہونے کے اندیشے ظاہر کئیے جارہے ہیں ۔ مرکز کی بی جے پی حکومت نے آسام کے این آر سی کے مسودہ کو قطعی فہرست قرار نہیں دیا ہے اور یہ تیقن دینے کی کوشش کی ہے کہ آسام کے 40 لاکھ شہریوں کو اپنا ادعا پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا ۔ این آر سی کی فہرست میں عدم شامل 40 لاکھ آسامی باشندوں کا مستقبل تاریک بناکر اب قومی و علاقائی سطح پر یہ خوف پیدا کردیا جارہا ہے کہ آسام کے خطوط پر سارے ملک میں این آر سی رپورٹ تیار کی جائے گی ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے اصل ایجنڈہ ہندوستان کو ہندو راشٹرا بنانے کی کوششوں کا پہلا شکار آسام کے مسلمان ہوئے ہیں ۔ ایسی سنگین کیفیت کے باوجود حکمراں طبقہ یہی دلاسہ دیتا نظر آرہا ہے کہ جن کے نام شامل نہیں کئے گئے ، انہیں اپنی ہندوستانی شہریت کا ثبوت پیش کرنا ہوگا ۔ ان کے ابا و اجداد کے 1951 کی دستاویزات پیش کرنے ہوں گے ۔ آسام میں ان کے دادا ، پڑداداکے رہائشی ثبوت جمع کرنا ہوگا ۔ یہ بھی پیش نہ کرسکیں تو انہیں کم از کم 25 مارچ 1971 کی تاریخ سے آسام میں مقیم ہونے کا ثبوت داخل کرنا ہوگا ۔ لیکن حکومت اور اس کے کارندوں کو اس حقیقت کا علم ہی نہیں ہے کہ ہندوستان کے بیشتر حصوں میں ہندوستانی عوام نسل در نسل اپنی پیدائش اور موت یا شادی کا رجسٹریشن کروانے کو لازمی متصور نہیں کرتے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی دیہی آبادی ناخواندہ ہونے کی وجہ سے وہ کوئی بھی ریکارڈ پیش کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اور بعض باشندے تو ایسے بھی ہیں جو اپنا کیس لڑ سکیں اور یہ ثابت کرسکیں کہ وہ ہندوستان کے شہری ہیں ۔ بعض لوگ تو اتنے غریب اور پسماندہ ہیں کہ وہ قانونی مدد حاصل کرنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں تو پھر یہ لوگ اپنے ہندوستانی شہری ہونے کا ثبوت کس طرح پیش کرسکیں گے اور اپنی شناخت بچانے کے لیے کس کی مدد حاصل کرپائیں گے ۔ آسام کے این آر سی کا سب سے زیادہ منفی اثر مسلمانوں کی بڑی تعداد پر ہوگا ان میں بعض بنگالی بولنے والے ہندو بھی ہیں ۔ آسام کے این آر سی سے جو 40,07,707 افراد کے نام حذف کردئیے گئے ہیں ۔ جن میں سابق صدر جمہوریہ ہند فخر الدین علی احمد کے بھائی کا خاندان بھی شامل ہے ۔ اس خاندان کا نام و نشان تک نہیں ہے ۔ ہندوستانی فوج میں 30 سال تک خدمت انجام دینے والے اجمل حق کا نام بھی آسام کے این آر سی میں شامل نہیں ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا انہیں بھی اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے این آر سی یا بی جے پی کی سازشوں کے آگے بے بس ہونا پڑے گا ۔ خوف پیدا کرنے والے جنونیوں نے بھی اس مسئلہ کو نازک بنادیا ہے ۔ بعض سیاستدانوں نے این آر سی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا بہانہ تراش لیا ہے کہ مسلمانوں کو غیر قانونی تارکین وطن قرار دے کر انہیں ملک سے نکال دیا جائے ۔ اگرچیکہ ان میں سے کئی ہندوستانی شہری ہوسکتے ہیں مگر اپنی شہریت ثابت نہیں کرسکتے اور پڑوسی ملکوں کے شہری ہونے کے شبہ میں انہیں ملک بدر کردیا جائے گا تو پڑوسی ممالک انہیں قبول نہیں کریں گے گویا مانیمار کی صورتحال کا عکس یہاں دکھایا جاسکتا ہے ۔ مانیمار میں ظلم و زیادتی کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا یہاں چالاکی کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کو شہریت سے محروم کر کے خارج وطن کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ کانگریس کے این آر سی کے مسئلہ پر کافی غور تو کیا ہے مگر وہ بی جے پی کو فائدہ پہونچانے والے عمل سے گریز کرنے کے لیے فی الحال اس پر خاموشی کو ترجیح دینا چاہا ہے ۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں اگرچیکہ مسئلہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا لیکن وہ حتمی نتیجہ پر نہیں پہونچ سکی ۔ یہ بات تو واضح کردی گئی کہ بی جے پی اس این آر سی کو صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کررہی ہے ۔ جس کے ذریعہ ہی وہ زعفرانی فرقہ پرستانہ ایجنڈہ کو فروغ دے سکے ۔ این آر سی کا نظریہ تو کانگریس کا ہی ایجاد کردہ ہے مگر اس کا بیجا استعمال بی جے پی کرنے جارہی ہے ۔ اس نے کانگریس پر یہ الزام عائد کر کے اسے خاموش کردیا کہ کانگریس کو قومی سلامتی کی فکر نہیں ہے ۔ لوک سبھا انتخابات کے عین موقع پر اگر کانگریس کو قومی سلامتی کے حوالے سے بی جے پی نشانہ بنانے میں کامیاب ہوجائے تو یہ کانگریس کے لیے شدید دھکہ ہوگا ۔ اس لیے وہ مسلمانوں کو ہونے والے نقصانات پر مفاد پرستانہ مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بقا کی فکر میں الجھی ہوئی ہے ۔ بی جے پی کی اس جارحانہ چال نے کانگریس پارٹی کو تقریباً غرق کردیا ہے تو پھر آنے والے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا دوبارہ اقتدار حاصل کرنا یقینی ہوجائے گا ایسے میں ملک کے مسلمانوں کے لیے شعوری حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کرنا ضروری ہے ۔۔