خوبصورت ترین مسجد حکیم میر وزیر علی کے خوش الحان اور تعلیم یافتہ امام حافظ محمد شبیر احمد سے انٹرویو

حیدرآباد ۔ 21 ۔ اگست : ( نمائندہ خصوصی ) : شہر کی بڑی مساجد کے حوالے سے جب بات آتی ہے تو تاریخی مکہ مسجد کے بعد مسجد حکیم میر وزیر علی فتح دروازہ ( چندو لال بارہ دری کالونی ) کا نام سب سے پہلے آتا ہے جہاں زائد از 7000 مصلی کے بیک وقت نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے ۔ اپنی خوبصورتی ، سہولیات اور بے مثال ساونڈ سسٹم کے لیے مشہور اس عظیم الشان اور وسیع مسجد میں نماز ادا کرنے کا لطف ہی کچھ اور ہے کیوں کہ اس مسجد کے امام صاحب کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قدر مسحور کن آواز سے نوازا ہے کہ جب وہ قرآن پاک کی تلاوت کررہے ہوتے ہیں ، مصلیان مسجد ذہنی یکسوئی کے ساتھ ان کی تلاوت میں کھوجاتے ہیں ۔ آج مسجد حکیم میر وزیر علی کے امام مولانا حافظ و قاری محمد شبیر احمد یعقوبی ولد شیخ محمد داؤد کا انٹرویو لیا ہے ۔ ایک سوال پر امام موصوف نے بتایا کہ ان کی پیدائش وجئے واڑہ میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم جامعہ یعقوبیہ نوریہ وجئے واڑہ میں ہوئی ۔ اور وہیں انہوں نے حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی اور پھر 14 سال کی عمر میں حیدرآباد آگئے جہاں جامعہ نظامیہ میں داخلہ حاصل کیا ۔ زائد از 10 سال تک تعلیم حاصل کرتے ہوئے مولوی ، عالم ، فاضل اور پھر کامل الفقہہ مکمل کی ۔ حافظ شبیر عمر 39 سال نے بتایا کہ جس وقت وہ عالم دوم میں زیر تعلیم تھے اسی وقت سے یعنی 21 سال سے وہ مسجد حکیم میر وزیر علی میں امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ان کے مطابق جامعہ نظامیہ سے تعلیم کی تکمیل کے بعد اسی ادارے میں استاذ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ معلم تحتانوی کی حیثیت سے آغاز کرنے والے حافظ شبیر احمد یعقوبی اب اس تاریخی جامعہ میں نائب شیخ التجوید کے عہدے پر فائز ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتہ میں چار دن وہ اس مسجد میں عمر دراز افراد کو تجوید اور عربی سکھانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔ جس میں 60 سال تک عمر کے افراد حصہ لے رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ ان کا تعلق جامعہ نظامیہ سے ہے اور عالم دین ہیں ۔ اس لیے لوگ روزمرہ کے فقہی مسائل کے لیے بھی ان سے رجوع ہوتے ہیں جن کا وہ تشفی بخش جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ امام صاحب نے مزید بتایا کہ فی الوقت وہ ’مجموعہ منتخب الصحاح ‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کررہے ہیں ۔ حافظ شبیر احمد نے بتایا کہ انہیں اس مسجد میں گذشتہ 18 سال سے 3 پارے تراویح اور 8 سال سے نماز تہجد بھی پڑھانے کی سعادت حاصل ہے ۔ جب کہ پچھلے 14 سال سے درس نظامی کے مختلف فنون میں مختلف کتابیں پڑھا رہے ہیں ۔ مولانا مفتی خلیل احمد ، مولانا مفتی عظیم الدین ، مولانامحمد خواجہ شریف ، مولانا حافظ محمد عبداللہ قریشی الازہری اور دیگر شیوخ کرام کی نگرانی میں جامعہ نظامیہ کے علمی شب و روز بحسن و خوبی طئے پارہے ہیں ۔ استاذ القراء مولانا محمد عبدالغفور ( شیخ التجوید ) کے پاس قرآن واحدہ ، بروایت عاصم کوفی ، سبعہ حفص مکمل کیے ۔ پھر آپ کے پاس پہلا پارہ مکمل قراء عشرہ سے تکمیل کیے ۔ پھر از ابتداء تا انتہا مکمل قرآن شریف کی تلاوت روایت سبعہ عشرہ حضرت مولانا استاذ القراء پیر طریقت شاہ محمد غوث صاحبؒ کے پاس مکمل کیا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں اس کا سہرا اللہ و رسولؐ اور والدین کے بعد پیر طریقت حضرت الحاج محمد محمد یعقوب علی شاہ نوری چشتی قادری بانی جامعہ یعقوبیہ نوریہ وجئے واڑہ کے سر جاتا ہے ۔ جن کی سرپرستی اور دعاؤں سے آج وہ اس مقام پر پہونچے ہیں ۔ اسی دوران ہم نے مسجد کے سکریٹری محمد نثار سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ مسجد کافی قدیم ہے جسے بعد میں تعمیر نو کیا گیا اور اس میں توسیع کے ساتھ ساتھ جدید ترین ساونڈ سسٹم نصب کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ حافظ شبیر احمد کافی ملنسار اور باصلاحیت عالم دین ہیں ۔ اور ان کی قرات کی وجہ سے کافی دور دور سے لوگ یہاں نماز کے لیے آتے ہیں ۔ انہوں نے کہا یہاں اب نماز جمعہ ٹھیک ایک بجے ادا کی جارہی ہے جہاں 7000 مصلی نماز ادا کرتے رہے ہیں ۔۔