خواجہ ہدایت علی فارسٹ رینج آفیسرنرمل

سید جلیل ازہر
ایک فرض شناس عہدیدار کی حیثیت سے محکمہ جنگلات میں کافی مقبول

محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کو اپنے فرائض کی تکمیل کیلئے جنگلی جانوروں سے زیادہ ساگوانی چوبینہ کی اسمگلنگ کرنے والوں سے خطرہ رہتا ہے تاہم کچھ عہدیدار اپنے فرائض کے آگے زندگی کی پرواہ کئے بغیر اپنی ڈیوٹی کو بحسن و خوبی نبھاتے ہوئے جنگلات کے تحفظ کے لئے خود کو وقف کردیتے ہیں، ان عہدیداروں کی فہرست میں ایک نام خواجہ ہدایت علی فارسٹ رینج آفیسر کا ہے جنہوں نے دو سال سے نرمل رینج آفیسر کی حیثیت سے اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا ہے، دو سالہ دور میں انہوں نے نرمل میں قریب 103 گاڑیوں کو جو غیر قانونی ساگوانی چوبینہ اسمگل کررہے تھے ضبط کیا اور محکمہ جنگلات کو جرمانے کی رقم 45 لاکھ 27,065 وصول کرتے ہوئے رات دن چیک پوسٹ پر ڈیوٹی انجام دی۔ دریں اثناء گاڑیوں کا تعاقب کرتے ہوئے انہوں نے خطرہ مول لیا تھا، رات کے اوقات میں مسلسل اسمگلنگ کے راستوں پر اپنی ٹیم کے ہمراہ گشت کرتے ہوئے انہوں نے اسمگلنگ کو ناکام بنانے میں اپنی ڈیوٹی انجام دی۔ خواجہ ہدایت علی نے بتایا کہ نرمل رینج کا رقبہ تیرا ہزار ایکڑ پر قائم ہے اور جنگلاتی اراضی کے تحفظ کے لئے حدود مقرر کرتے ہوئے اس کو جنگلات کے قبضہ میں لے لیا گیا ہے جبکہ مسلسل گرما کی شدت کو دیکھتے ہوئے جنگلی جانوروں کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی جارہی ہے، جہاں بھی جنگلاتی علاقوں میں جانوروں کا زیادہ گذر ہوتا ہے اس علاقہ میں جانوروں کو پینے کے پانی کی سہولت گڑھے کھود کر پہنچائی جارہی ہے۔ کئی علاقوں میں سی سی کیمروں کے ذریعہ جانوروں کی حمل و نقل پر نظر رکھی جارہی ہے۔ خواجہ ہدایت علی نے بتایا کہ جاریہ سال اس رینج میں تین لاکھ پودے لگانے کا تخمینہ ہے ساتھ ہی نئی سڑکوں پر شجرکاری کی جارہی ہے۔ شہر نرمل کو بھی سرسبز و شاداب بنانے کیلئے محکمہ ٹھوس اقدامات کررہا ہے بلکہ مانسون کے آغاز اور بارش کے ساتھ ہی شہر نرمل کو سرسبز و شاداب بنانے کیلئے شجر کاری کا بڑے پیمانے پر پروگرام بنایا گیا ہے۔ انہوں نے نمائندہ ’سیاست‘ جلیل ازہر سے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان کی ملازمت کے 12سال مکمل ہونے کو ہیں، میری کارکردگی اور والدین کی دعاؤں کا ثمر ہے کہ مجھے حکومت کی جانب سے اسوقت کے چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے ہاتھوں 3 مرتبہ ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ ضلع سطح پر آٹھ اور ڈیویژن کی سطح پر کئی ایوارڈس ملے ہیں۔ ضلع کے مختلف مقامات پر میں نے جس جگہ بھی ملازمت کی اپنی کارکردگی کے نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ اللہ کا کرم اور میرے بزرگوں کی دعاء ہے۔ انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ ’’ عرش والے سے رابطے مضبوط ہوں تو فرش والے کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ اس لئے میں اپنے فرائض کو بے خوف انجام دیتا ہوں۔ یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ خواجہ ہدایت علی راقم الحروف سے قبل یعنی 1982 تک نرمل سے روز نامہ ’سیاست‘ کے رپورٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ بعد ازاں محکمہ جنگلات سے منسلک ہوگئے۔ آئندہ سال وظیفہ پر سبکدوش ہونے جارہے ہیں۔