۔22 ستمبر تا 15 اکٹوبر2018 ء
’’باتیں امن کی‘‘ مہم
نئی دہلی 15 جون (سیاست ڈاٹ کام) خواتین کی تنظیموں، سوشل گروپس اور سیول رائٹس کے جہدکاروں کی بڑی تعداد نے مل کر آنے والے مہینوں میں ملک بھر میں عوامی بیداری پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ اور امن، ہم آہنگی، جمہوریت اور دستور ہند کو خطرات کے تعلق سے مہم چلاتے ہوئے لوگوں کو واقف کرایا جائے گا۔ نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن سے وابستہ اینی راجہ نے کہاکہ گزشتہ چار سال میں ہندوستان میں خواتین کی حالت تشویشناک شرح پر ابتر ہوتی گئی ہے۔ اِس کی بنیادی وجہ مذہب کو سیاسی رنگ دینا اور سیاست میں مذہب کو خلط ملط کرنا ہے جس میں دائیں بازو کی ہندو تنظیمیں پیش پیش ہیں اور وہ سماج میں خواتین کے رول اور اخلاقی اقدار کا فیصلہ کررہے ہیں۔ اُنھوں نے مذہب کا استعمال کبھی خفیہ اور کبھی کھلے طور پر برسر اقتدار بی جے پی کی منظوری کے ساتھ کیا ہے۔ AIDWA کی مریم دھاؤلے اور لینا دبیرو کی شبنم ہاشمی کے ساتھ گزشتہ روز یہاں انڈین ویمنس پریس کلب میں پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے اینی نے مزید کہاکہ اِس حکومت نے خواتین کو مختلف ترغیبات کے نام پر دھوکہ دیا ہے۔ اب وقت آچکا ہے کہ ہماری آواز پرزور انداز میں اُٹھائی جائے۔ چنانچہ ’’باتیں امن کی‘‘ مہم کے ذریعہ ہم اُن تمام قوتوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے جو اِس ملک کو مذہب یا قوم پرست جذبات کے نام پر توڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اِن تنظیموں نے اپنی ملک گیر مہم کے لئے 22 ستمبر اور 15 اکٹوبر 2018 ء کے درمیان کی مدت طے کی ہے۔ ممتاز سیول رائٹس جہدکار شبنم ہاشمی نے کہاکہ خواتین کو ملک میں بڑھتے تشدد پر گہری تشویش ہے اور تمام ویمن گروپس اور پیپلز موؤمنٹس امن و محبت کا پیام پھیلانے کے لئے یکجا ہورہے ہیں۔