خواتین کو ہراساں کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا : پولیس کا انتباہ

کنٹراکٹ شادیوں کے دلال قاضیوں کے خلاف کارروائی ، اور کئی افراد پی ڈی ایکٹ کے تحت گرفتار ، ڈی سی پی ساوتھ زون کی پریس کانفرنس
حیدرآباد /6 فروری ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد میں عوام میں احساس تحفظ و سلامتی کو فروغ دینے کیلئے سٹی پولیس پی ڈی ایکٹ جیسے سخت قانون کے تحت جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں طویل عرصہ کیلئے جیل بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ۔ عادی رہزن ، سارقین اور دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے والے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے لیکن شہر میں پہلی مرتبہ غیر قانونی فینانس کا کاروبار اور کم عمر لڑکیوں کی کنٹراکٹ شادیاں کرانے میں ملوث دلالوں کے خلاف بھی پولیس نے شکنجہ کسنے کے سلسلے کا آغاز کردیا ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر وی ستیہ نارائنا نے آج پرانی حویلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ساؤتھ زون پولیس کی جانب سے چار افراد پر پی ڈی ایکٹ جیسے سخت قانون کو نافذ کرتے ہوئے کمشنر پولیس نے احکامات جاری کئے ۔ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون نے آج یہ اعلان کیا ہے کہ خواتین کے خلاف سنگین وارداتوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے اور ساؤتھ زون میں اب تک 55 روڈی شیٹس کھولی جاچکی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین سے دست درازی ، عصمت ریزی اور کم عمر بچوں کے ساتھ گھناؤنے حرکت اور دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ ساؤتھ زون میں خواتین کے خلاف کسی بھی قسم سے ہراساں کئے جانے والے افراد کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا اور اس سلسلے میں تمام انسپکٹران اور دیگر پولیس عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے تاکہ خواتین کی جانب سے درج کی گئی شکایتوں پر بروقت کارروائی کی جاسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ کنچن باغ پولیس اسٹیشن حدود کے ساکن محمد اکبر جو سابق میں کم عمر والی لڑکیوں کو عرب شیخوں سے کنٹراکٹ شادیاں کروانے کے واقعات میں ملوث ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ محمد اکبر غریب خاندان کی لڑکیوں کو محض مالی فائدہ کیلئے کنٹراکٹ شادیاں کروا رہا تھا ۔ جس کے عوض وہ بھاری رقومات حاصل کر رہا تھا اور شادی کے دوران کم عمر لڑکیوں سے سادے کاغذات پر دستخط لیکر مقررہ وقت کے بعد ان کاغذات کو طلاق کیلئے بھی استعمال کر رہا تھا ۔ مسٹر ستیہ نارائنا نے بتایا کہ اکبر کے خلاف سابق میں جسم فروشی کیلئے کم عمر لڑکیوں کے استعمال اور انہیں غیر قانونی طور پر استحصال کرنے کے وارداتوں میں ملوث ہے ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس نے بتایا کہ کنٹراکٹ شادیوں میں دلالوں کے علاوہ قاضیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں گاندھی نگر سے عبدالرشید ، حفیظ پیٹ لنگم پلی کے سید سلمان اور ویسٹ ماریڈپلی کے حافظ محمد عظمت جعفری کی مشتبہ شیٹ کھولی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کنٹراکٹ شادیوں کیلئے دلالوں کے علاوہ قاضی بھی برابر کے شریک ہیں کیونکہ صرف مالی فائدہ کیلئے وہ کم عمر لڑکیوں کے عرب شیخوں سے نکاح کروا رہے ہیں ۔ اسی طرح غیر قانونی فینانس کے کاروبار میں ملوث محمد سجاد علی ساکن یاقوت پورہ کے خلاف بھی پی ڈی ایکٹ نافذ کیا گیا ہے جو جبراً وصولی اور قتل کی وارداتوں میں ملوث ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سجاد علی کو سابق میں رین بازار ، حبیب نگر پولیس نے جبراً وصولی اور دیگر وارداتوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا تھا لیکن وہ ضمانت پر چھوٹنے کے بعد غیر قانونی فینانس کا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے ۔ مسٹر ستیہ نارائنا نے بتایا کہ خواتین کے گلے سے منگل سوتر و طلائی چین اُڑا لینے کے وارداتوں میں ملوث عادی رہزن سید اسلم اور عبدالمجید ساکن میرچوک کے خلاف بھی پی ڈی ایکٹ نافذ کیا گیا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بچہ مزدوری کو فروغ دینے والے افراد کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی اور گذشتہ ہفتہ 332 کم عمر بچوں کو پرانے شہر کے علاقہ میں چوڑیوں اور دیگر صنعتوں پر دھاوا کرتے ہوئے انہیں آزاد کروایا گیا تھا ۔