خواتین کو مناسب لباس پہننے تلگودیشم ایم پی کے ریمارک پر ہنگامہ

حیدرآباد ۔ /7 اگست (سیاست نیوز) تلگودیشم رکن پارلیمنٹ نے آج لوک سبھا میں خواتین کے لباس سے متعلق ایک ریمارک کرتے ہوئے ہنگامہ برپا کردیا۔ انہوں نے خواتین سے کہا کہ وہ مناسب اور معتبر لباس زیب تن کریں ۔ اس ریمارک پر لوک سبھا کی خاتون ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ ان میں سے ایک خاتون رکن نے تلگودیشم ایم پی کے تعلق سے کہا کہ کرسی صدارت کو حکم دینا چاہئے کہ وہ ایوان سے باہر چلیں گے ۔یہ مسئلہ خواتین اور بچوں پر ظلم و زیادتی کے موضوع پر ہونے والے مباحث کے دوران اس وقت پیدا ہوا جب تلگودیشم رکن پارلیمنٹ ایم مرلی موہن نے کہا کہ خواتین کو معزز و معتبر لباس پہننا چاہئے ۔ مرلی منوہر نے کہا کہ ہماری ہندوستانی تہذیب اور روایات کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔ میں اپنی تمام بہنوں ،بیٹیوں اور لڑکیوں سے مؤدبانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ معتبر اور معززلباس زیب تن کریں۔ ان کے اس ریمارکس کا سخت نوٹ لیتے ہوئے سپریا سولے (این سی پی) اور کماری سشمیتا دیو( کانگریس) کے بشمول کئی خاتون ارکان پارلیمنٹ نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ اس ریمارک کو حذف کرلیا جائے اور مرلی موہن سے کہا جائے کہ وہ ایوان سے چلے جائیں ۔ ان کا ریمارک قابل اعتراض ہے ۔ کرسی صدارت پر موجود حکم سنگھ نے احتجاجی خاتون ارکان کو خاموش کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ میں اس مسئلہ کا جائزہ لوں گا ۔ یہ ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے ۔ میں بھی خواتین سے اتفاق رکھتا ہوں۔ ایوان میں اس طرح کے ریمارکس نہیں ہونا چاہئے ،آپ مطمئن رہئے کرسی صدارت کی جانب سے مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔