بنائو سنگھارعورتوں کی فطرت میںرکھا گیاہے، انسانی فطرت اس کی تکمیل کاتقاضہ کرتی ہے،اسلام فطری چاہت پرنہ کوئی سخت روک لگاتا ہے اورنہ فطری خواہشات کی تکمیل کیلئے آزادانہ روش اختیارکرنے کی اجازت دیتاہے بلکہ شرعی حدودمیں رہتے ہوئے جائزوپاکیزہ اشیاء کے ذریعہ زیب وزینت ،آرائش وزیبائش کی اجازت دیتاہے۔پھریہ بنائو سنگھاراول تو گھرکے اندرخاص طورپراپنے شوہرکیلئے ہو،اجنبی وغیرمحارم کیلئے نہ ہو، شادی بیاہ کی ایسی محفلیں جہاں خواتین کے برخلاف اجنبی وغیرمحارم ہوںان پربنائو سنگھارہرگزظاہر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ زیب وزینت کے اختیارکرنے میں فطری خلقت میں کوئی تغیروتبدیلی لازم نہ آتی ہو جیسے،بھنویں بنانایا ان میں بلاوجہ کوئی تراش خراش کرنا یا ان کوپوری طرح صاف کرکے نکال دینا ،اپنے بالوں کودرازدکھانے کیلئے انسانوں کے بالوں کواس میں جوڑنااوردانتوں کے درمیان حسن کیلئے ریخ بنانا یعنی خوبصورتی کیلئے دانتوں کے درمیان فصل پیداکرنا اسلام اس کا حامی نہیں ،حدیث پاک میں دانتوں کے درمیان فصل پیداکرنے والی خواتین کومتفلجات کے لفظ سے تعبیرکیا گیاہے ۔سیدنا محمدرسول اللہ ﷺنے واشمات ،مستوشمات ، نامصات، متنمصات، متفلجات پرلعنت فرمائی ہے یعنی گودنے والیوں ،گودانے والیوں، بال اکھاڑنے والیوں،بال اکھڑوانے والیوں،حسن وخوبصورتی کیلئے دانتوں میں شگاف پیداکرنے والیوں اوراللہ کی خلقت میںتغیرو تبدیلی کرنے والیوں پراللہ سبحانہ کی لعنت ہو(بخاری:۵۹۳۱)ایک حدیث پاک میں واصلات، مستوصلات وغیرہ یعنی جو اپنے بالوں کے ساتھ دوسرے انسانوں کے بال جوڑتی ہیں یا جڑواتی ہیںان پربھی لعنت فرمائی ہے(بخاری:۵۹۴۰)
سرکے بالوںکے ساتھ انسا نی بالوں کی آمیزش ،پیشانی ،چہرہ ،ہاتھوں یا پنڈلیوں سے بالوں یا رونگٹوں کی بلاضرورت صفائی ،بھنوئوں کی تراش خراش یا انہیں اکھیڑکرباریک بنانے اور سیاہ بالوں میں کسی اوررنگ کے خضاب کا استعمال جیسے سیاہ بالوں کوبھورے یا سنہرے وغیرہ رنگوں سے رنگنے کا رواج چل پڑاہے ،سرکے بالوں کوکسی خاص ساخت کا بنانے کیلئے تراش خراش کرنے یا فاسق وفاجرخواتین کی طرح بالوں کومردوں کی طرح بنالینے یا ان کوگھونگھریالا بنانے کا چلن اس وقت مسلم سماج میں عام ہوگیا ہے ۔بعض خواتین کنگھی کرکے سرکے اوپری حصہ میں بالوں کوجمع کرکے بختی اونٹوں کی کوہان کی طرح بالوں کا گچھا بناتی ہیں اسلام اس کوپسندنہیں کرتا،حدیث شریف میں واردہے ’’میں نے جہنم والوں کی دوقسم کودیکھا ہے ایک تووہ جن کے پاس گائے کی دم جیسے کوڑے ہوں گے جس سے وہ لوگوں کوماریں گے پیٹیں گے، دوسری وہ عورتیں ہیں جوکپڑے پہن کربھی عریاں ہوں گی اورجومائل ہونے والی اورمائل کرنے والی ہوں گی اوران کے سرنحیف ولاغربختی اونٹوں کی کوہان کے مانندہوں گے نہ تو وہ جنت میں داخل ہوں گی اورنہ تو جنت کی خوشبوپائیں گی جبکہ اس کی خوشبودرازمسافت سے بھی محسوس کی جاسکے گی(مسلم:۲۱۲۸) سیدنامحمدرسول اللہ ﷺ نے عورتوں کوسرمونڈنے سے منع فرمایا ہے ،سرکے بال کاٹ کرچھوٹے کرنا بھی ایسا ہی حکم رکھتا ہے ،عورتوں کواپنے بالوں کوگوند کرچوٹی ڈالناچاہئیے اوریہ حسن وجمال میں ان کے حق میں مردوں کی ڈاڑھیوں کی طرح ہے ، ہاں البتہ سرکے بال اس قدردراز ہوں کہ ان کوسنوارنا اوران کی حفاظت کرنا مشکل ہوتو پھر بقدر ضرورت کاٹنے میں کوئی حرج نہیںکیونکہ اس کی وجہ اس کی حقیقی ہیئت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ۔ بالوں کا سیاہ ہونا فطری حسن ہے اس لئے غیروں کا دیکھا دیکھی حسن کے جذبہ ہی سے کیوں نہ ہو اس کومختلف رنگوں میں تبدیل کرنا اسلام کے نظام فطرت سے ہم آہنگ نہیں،اوروہ خواتین یا مرد عمر کی زیادتی کی وجہ جن کے بال سفید ہوگئے ہوں ان کے لئے سیاہ خضاب درست نہیں۔ سیدنامحمدرسول اللہ ﷺنے اس سے منع فرمایاہے(مسلم:۲۱۰۲)البتہ احادیث میں ان کیلئے مہندی یاوسمہ (نیل کے پتوں )کے رنگ سے خضاب کی اجازت ثابت ہے (ابوداود:۴۲۰۵)
ناخن درازرکھنااوراس پرمختلف رنگوں کی پالش کرنا بھی زیب وزینت میں شامل کرلیا گیا ہے،ناخن بڑھ گئے ہوں توان کا تراشنا خصائل فطرت میں ہے،یہ ایسی سنت ہے جس پرسارے اہل علم کا اجماع ہے۔ناخن تراشنا فطری حسن میں اضافہ کرتا ہے ،درازناخنوں کے نیچے میل وکچیل جمع ہوجاتاہے جومضرصحت ہے اورایک جہت سے دیکھا جائے تودرازناخن کا ہونا خونخواردرندوں سے مشابہت رکھتا ہے،ان میں حسن محسوس کرنا خلاف فہم اورباعث وحشت ہے۔دراز ناخن کے اندرمیل وکچیل کے جم جانے اورناخن پرکی جانے والی رنگ آمیزپالش سے ناخن کے حقیقی جسدتک پانی نہیں پہنچ سکتا جس سے وضودرست نہیں ہوگا۔
ان حقائق کے پیش نظر زیب وزینت اختیارکرنے میں ایسی وضع قطع اختیارکرنے کی اجازت نہیں جوغیرمسلم اقوام کا شعارہو،ماتھے پربندیا لگانے کا رواج مسلم معاشرہ میں چل پڑاہے جوغیروں سے ہم نے لیا ہے،خوبصورتی کیلئے پیشانی پر تلک لگانا اورمانگ میں سیندور بھرنا بھی غیرمسلموں کاشعارہونے کی وجہ جائزنہیں،اکثربیوہ خواتین کوسفیدلباس زیب تن کرنا ضروری خیال کیا جاتاہے اوراس کی پابندی مسلم سماج کے بعض گوشوں میں لازمی قراردے لی گئی ہے، اوراس کی خلاف ورزی پرچہ میگویاں شروع ہوجاتی ہیں۔ظاہرہے اسلام نے ایسی کوئی پابندی عائدنہیں کی ہے، زیب وزینت کے اختیارکرنے میں غیرمسلم اقوام کونمونہ عمل بنانا اس لئے درست نہیں کہ آپ ﷺنے کفارومشرکین کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایاہے:جوجس جماعت وقوم کی مشابہت اختیارکرے گا وہ انہیں میں شمارکیا جائے گا(ابوداود:۴۰۳۱)۔مشابہت خواہ افعال وکردارمیں ہو،خواہ اخلاق واطوارمیں ہو، خواہ لباس ومعاشرت زیب وزینت میں ہو۔بعض مسلم خواتین حسن وزیبائش کے جنون کی وجہ اہل ہنوداورفرنگی خواتین کی تقلید میں اسلامی تہذیب وثقافت اور اسلامی تفردوتشخص کوپامال کرکے اپنی خصوصی اسلامی شناخت کومجروح کررہی ہیں۔
زیبائش وآرائش کے رجحان کو بیوٹی پارلرس نے اوربڑھاوادیا ہے،میک اپ کے بغیرکسی تقریب میں شرکت کا تصورتقریبا محال ہوگیا ہے،اوراب یہ رجحان جنون کی شکل اختیارکرگیا ہے ،ہزاروں روپیوں کی بربادی کے ساتھ تضیع اوقات پھرزیبائش وآرائش کے مصنوعی کیمیکلس پرمبنی اشیاء کے استعمال کی وجہ فطری حسن روبہ زوال ہے اورجس سے جلدی امراض لاحق ہورہے ہیں،جلدکے ماہرین کی تحقیق یہ ہے کہ اس کی وجہ اسکن کے مسامات کھل کربڑے ہوجاتے ہیں اورمیک اپ کی اشیاء کا استعمال اسکن کی فطری چکنائی کوختم کردیتا ہے اورچھریاں تیزی سے پھیلنے لگتی ہیں ،یہی وجہ ہے میک اپ کے مسلسل استعمال سے نوجوان لڑکیاں زیادہ عمرکی دکھائی دینے لگی ہیں،اکثرتجربہ کارمردوخواتین کا اوربسااوقات شوہرکا بھی تجزیہ یہ ہے کہ میک اپ زدہ دلہن رات کی تاریکی میں نوجوان ،خوب رو حسینہ اورمیک اپ اترجانے کے بعددن کے اجالے میں نوجوان دلہن نہیں بلکہ دلہن کی ماں جیسی دکھائی دینے لگتی ہے۔ بعض مزاح نگاروں نے اپنے لطائف میںاس حقیقت کی ترجمانی کی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کبھی دولہا تو کبھی دلہن اورکبھی کبھی قاضی صاحب کا شادی خانوں میں تاخیرسے پہنچنا ایک عام وباء کی شکل اختیارکرگیا ہے جومہمانوں اورخاص کرضعیفوں اوربیماروں کیلئے سوہان روح بن گیاہے۔اکثرایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ دولہا ،قاضی صاحب اورمہمان سب تو موجودہیں لیکن دلہن ندارد،تحقیق پرمعلوم ہوا کہ وہ کسی بیوٹی پارلرمیں اپنے حسن کوچار چاندلگانے میں مصروف ہے۔اللہ سبحانہ نے انسانوں کوجوفطری حسن وجمال دیا ہے اس سے کائنات کی دیگرمخلوقات محروم ہیںگوکہ ان کا تخلیقی حسن اپنی جگہ منفردوبے مثال ہے تاہم ظاہری اعتبار سے انسان کا سراپا جسمانی ساخت ،قدوقامت اوراعضاء وجوارح کی متناسب بناوٹ پھرباطنی اعتبارات جیسے عقل وتدبر،فہم وفراست ،حکمت ودانائی وغیرہ جیسی اللہ سبحانہ کی ودیعت کردہ قوتیں جس کی وجہ انسان اللہ سبحانہ کی صناعی کا ایک حسین شاہکارہے جسکی کوئی نظیرنہیں ۔خود خالق کائنات نے اس حقیقت کوبیان فرمایا’’یقینا ہم نے انسان کوبہترین شکل وصورت میں پیداکیا ہے‘‘ (التین:۴)حدیث پاک میں واردہے’’اللہ سبحانہ نے آدم کواپنی صورت پر پیدا فرمایا‘‘(مسلم:۴۷۳۱)الغرض صوری ومعنوی حسن وجمال اورعقل ودانش کا ایک پیکرکمال اگرکوئی ہے تو وہ صرف اورصرف انسان ہے۔البتہ انسانوں اورخاص کرمسلم امت کے نوجوانوں اوردوشیزائوں کوکتاب وسنت کی روشنی میں اپنے باطن کوسنوارنے ونکھارنے کی ضرورت ہے،ظاہری حسن وجمال اوراس کی زیبائش وآرائش کے حددرجہ جنون نے فطری حسن وجمال کوگہن لگادیا ہے،کاش اسلامی احکامات اوراس کے اعلی اقداروروایات کے پاسدار بن کر اپنے ظاہری پیکرجمال کوآراستہ کرنے سے زیادہ باطن کوحسین وجمیل بنایا جاتا، یہی وہ نسخہ کیمیاء ہے جس کوفراموش کرکے امت کی اکثریت بجائے رفعت کے ’’ثم رددناہ اسفل سافلین‘‘(التین:۵)کی رو سے پستی کا شکارہے ۔عقل وفہم کے چراغ روشن کرنے ، ہواء نفس کی پیروی سے دست بردارہوکراپنے خالق ومالک کے حقیقی وفاداربننے اوراسکی بندگی بجالاکراپنے ظاہروباطن کے حقیقی حسن وجمال کواقوام عالم پرآشکارکرنے کی ضرورت ہے۔