نئی دہلی ۔ /20 جون (سیاست ڈاٹ کام) دستور اور رواج کے نام پر عورتوں کے ساتھ بربریت اور زیادتی کرنے کے چلن کی مذمت کرتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ایسے گھناؤنے کام کو کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ٹھہرایا جاسکتا ، بھلے ہی اس پر لمبے وقت سے عمل کیا جاتا رہا ہو ۔ جسٹس این آنند وینکٹیش نے منگل کو کہا کہ : کسی فرد پر کسی دستور یا تقریب میں شامل ہونے کا دباؤ بنانے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ہے ، ایسا کام جس میں درد اور پریشانی ہو اور جو انسان پر ظلم کرتی ہو ، ایسے گھناؤنے کام کو بھی صحیح نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ چاہے اس کام کو لمبے وقتوں سے ہی کیوں نہ کیا جاتا رہا ہو ۔ جسٹس وینکٹیش نے مزید کہا کہ ایسا رواج جس سے کہ کسی کو ٹھیس پہنچتی ہو اور غیر انسانی ہو ، وہ آئین کے دفعہ 21 کی خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں یہ پیغام جانا چاہیے کہ دستور اور رواج کے نام پر ظلم کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور عدالتیں ان سے سختی سے نپٹے گی ۔ معاملہ /12 فبروری 2001 ء کا ہے جب 4 عورتیں ایک عورت کو دیر رات جبراً ایک باندھ پر لے گئیں ، وہاں انہوں نے اس کے کپڑے اتارے ،اس کا منڈن کیا اور گرم سوئی سے اس کی زبان جلادی ۔ انہیں شک تھا کہ عورت پر پریت کاسایہ ہے ۔ جسٹس نے یہ تبصرہ دھرم پوری کے چیف سیشن جسٹس نے جولائی 2010ء کے فیصلے میں تبدیلی کرتے ہوئے کیا ۔ سیشن جج نے چاروں عورتوں کو ایک سال کی جیل کی سزاء سنائی تھی ۔ انہوں نے ملزم عورتوں کے ذریعے پہلے ہائی کورٹ کی سزاء کی مدت کو دیکھتے ہوئے اور ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے ان کی سزاء بدل دی ۔
انہوں نے ہر عورت کو 8 ہفتے میں 15-15 ہزار روپئے کا معاوضہ جمع کرنے کو کہا ۔