خواتین میں دل کے امراض

مردوں میں دل کے دورے کی وجہ عموما خون کی کسی نس میں رکاوٹ ہوتی ہے۔ خون کی نالیوں کے ایکس رے، یا انجیوگرافی کی مدد سے اس رکاوٹ کی نشاندہی پہلے سے کی جا سکتی ہے۔ اس ایکس رے کیلئے خون کی نس میں ایک باریک سی نالی ڈالی جاتی ہے لیکن انجیوگرافی کی مدد سے خواتین کے دوران خون میں رکاوٹوں کی نشاندہی اتنی آسان نہیںجس کی وجہ سے خواتین میں دل کے دورے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال تقریبا ایک کروڑ 80 لاکھ خواتین اس مرض کا شکار ہو تی ہیں اور یہ مرض صرف بڑی عمر کی خواتین کو ہی متاثر نہیں کرتا ۔ خواتین کو امراض دل کے بارے میں معلومات پہنچانے کیلئے سسٹر ٹو سسٹر نامی ایک ادارہ خواتین کو اپنے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور دیگر مسائل پر نظر رکھنے کا مشورہ دیتا ہے۔ بوسٹن میں واقع برہیم اینڈ وومن ہاسپٹل میں دل کے امراض پر کام کرنے والے ڈاکٹروں میں جونی فوڈی بھی شامل ہیں۔ ان کا کہناہے کہ مرض کی وجوہات کم کرنے سے دل کے 95 فیصد امراض کی روک تھام ممکن ہے۔ حفظان صحت کے ان اقدامات میں تمباکو نوشی سے گریز کرنا ، ذیابیطس پر کنٹرول ، صحت مند وزن برقرار رکھنا ، درست غذا ، روزانہ تقریبا 30 منٹ تک ورزش اور ذہنی دباؤ میں کمی لانا شامل ہیں۔ ترقی پذیر ملکوں میں خواتین میں امراض دل کی شرح بڑھ رہی ہے جس کی وجوہات میں ماہرین عالمی سطح پر پھیلنے والی موٹاپے کی بیماری کو بھی شامل کرتے ہیں۔ ماہر امراض قلب ڈاکٹر موزافرین کا کہناہے کہ بیمار ہونے کی وجہ یہ نہیں لوگ بہت زیادہ کھاتے ہیں،بلکہ یہ ہے کہ وہ درست غذا کا انتخاب نہیں کرتے۔ ڈاکٹر موزافرین کے مطابق خوراک میں مچھلی، اناج ، سبزیاں ، ان سے تیار شدہ خوردنی تیل اور خشک میوے کی مقدار بڑھانے، اور نمک اور چکنائی کم کرنے سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کی ایسی پالیسیاں تشکیل دینا بھی بہت ضروری ہوں گی جو دل کی صحت کے بارے میں لوگوں تک معلومات پہنچانے میں مدد دیں۔