11 مختلف ادویات کی نشاندہی، ڈاکٹرس کا نسخہ ساتھ رکھنے پروفیسر ایس اے شکور کا مشورہ
حیدرآباد ۔ 17 ۔ جولائی (سیاست نیوز) جاریہ سال فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے روانہ ہونے والے عازمین کو ادویات کو ساتھ رکھنے کے سلسلہ میں احتیاط کرنا چاہئے ۔ ایسی ادویات جو نیند یا نشہ آور ہوتی ہے، ان پر حکومت سعودی عرب نے پابندی عائد کردی ہے۔ عازمین حج نشہ آور ادویات کو ساتھ لے جانے سے گریز کرے۔ سعودی حکام نے 11 ایسی ادویات کی نشاندہی کی ہے، جو خواب آور اور نشہ آور ادویات میں شمار کئے جاتے ہیں۔ عازمین حج کی سہولت کیلئے ان ادویات کے ناموں کی نشاندہی کردی گئی تاکہ انہیں اپنے ساتھ لے جانے سے گریز کریں۔ سعودی حکام نشہ آور ادویات کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہیں اور عازمین حج کو کسی دشواری سے بچنے کیلئے یہ دوائیں لے جانے سے احتیاط کرنی چاہئے۔ اگزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور سے جب اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ سنٹرل حج کمیٹی کی جانب سے ادویات کے ناموں کے ساتھ کوئی اڈوائیزری عازمین حج کیلئے جاری نہیں کی گئی ہے۔ تاہم احتیاط کا تقاضہ ہے کہ عازمین حج کوئی بھی ایسی دوا اپنے ساتھ نہ رکھیں جن پر سعودی عرب میں پابندی ہو۔ ایرپورٹ پر عازمین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ انہوں نے عازمین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے امراض سے متعلق دوائیں ساتھ رکھتے ہوئے ڈاکٹرس کا تجویز کردہ تحریری نسخہ بھی اپنے ساتھ رکھیں تاکہ سعودی حکام کو ادویات کی نشاندہی میں سہولت ہو۔ کسی بھی دوائی کو بغیر ڈاکٹرس کی تحریر کے اپنے ساتھ نہ لے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت سعودی عرب خواب آور ادویات پر پابندی عائد کرچکی ہیں تو عازمین کو ہر ممکن احتیاط کرنی چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ حج کیمپس میں عازمین حج کی اس سلسلہ میں رہنمائی کی گئی کہ سعودی عرب میں کن اشیاء اور ادویات پر پابندی ہے۔ بعض اشیاء بھی ایسی ہیں جنہیں سعودی عرب نہیں لے جایا جاسکتا ہے۔ عازمین حج سعودی عرب میں قیام کے دوران کسی بھی طبی ضرورت کے سلسلہ میں انڈین حج مشن کے ڈاکٹرس سے ربط پیدا کرتے ہوئے ادویات حاصل کرسکتے ہیں۔ لہذا عازمین کو ضرورت سے زیادہ دوائیں رکھنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ ڈاکٹرس نے بھی بتایا کہ سعودی حکام نے جن ادویات کی نشاندہی کی ہے ، ان کا شمار خواب آور ادویات میں ہوتا ہے۔