خلیج تعاون کونسل کا مشترکہ نیول فورس کی تشکیل پر غور

کویت سٹی۔ 27 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) خلیج تعاون کونسل ’’جی سی سی‘‘ نے خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے مشترکہ نیول فورس تشکیل دینے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سے قبل خلیج تعاون کونسل کا مشترکہ پولیس فورس قائم کرنے پر اتفاق ہو چکا ہے۔ جی سی سی وزراء داخلہ کا 33 واں سالانہ اجلاس کویت کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس میں تنظیم کے تمام رکن ممالک کے وزرا ء داخلہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں جن معاملات پر تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی وہ اس طرح ہیں: جی سی سی وزارت ہائے داخلہ میں سکیورٹی معاہدہ جس کے بارے میں اب تک وزارت داخلہ کے زیر انتظام اسسٹنٹ انڈر سیکرٹریز کی جانب سے کسی قسم کی ترمیم نہیں کی گئی پر تبادلہ خیال کیا گیا، مشترکہ خلیجی پولیس فورس کا قیام اور متحدہ عرب امارات میں اس کے ہیڈ کواٹرز پر تبادلہ خیال، وزارت ہائے داخلہ کے آپریشن کنٹرول روم میں یونیفائیڈ مواصلاتی سسٹم یا فائبر آپٹک سسٹم کی تنصیب،

دہشت گردی کے خلاف تعاون، معلومات کا تبادلہ اور خلیج میں دہشت گردوں کے مالی سوتوں کی بندش پر غور، خلیجی مملکتوں کے درمیان ٹریفک اور شہری دفاع کیلئے سکیورٹی کمیٹیوں کا قیام۔ اجلاس کے شرکاء نے خلیجی ممالک کی سطح پر مشترکہ بحری فورس کی تشکیل پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب میں میزبان وزیر داخلہ الشیخ محمد خالد الصباح نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خلیجی خطہ لمحہ موجود کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لعنت خطے کو پاک کریں۔ اس مقصد کے تمام ممالک غیرمشروط تعاون کریں اور اپنے وسائل کو بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں دہشت گردی کے فروغ کیلئے جدید ٹکنالوجی کے استعمال کے روک تھام کیلئے حکومتوں کی سطح پر جدید وسائل کے استعمال کی بھی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو دہشت گردوں اور انتہا پسند گروپوں کے بہکاوے سے روکا جاسکے۔