خلیجی ممالک کے تارکین وطن کے مسائل حل کرنے اقدامات

کیرالا کی طرز پر باز آبادکاری پیاکیج تیار کیا جائے گا ، کونسل میں وزیر فینانس کا جواب
حیدرآباد 10 مارچ (سیاست نیوز) وزیر فینانس ای راجندر نے کہا کہ خلیجی ممالک میں تلنگانہ کے تارکین وطن کے مسائل حل کرنے کیلئے حکومت اقدامات کرے گی۔ قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران تلگودیشم کے اے نرسا ریڈی کے سوال پر وزیر فینانس نے کہا کہ خلیج ممالک میں روزگار کی تلاش میں جاکر مسائل کا شکار ہونے والے افراد کی باز آبادکاری کیلئے حکومت جامع پالیسی تیار کرے گی۔ کیرالہ کی طرز پر باز آبادکاری پیاکیج تیار کیا جائے گا ۔ وزیر فینانس نے کہا کہ ملازمت کے سلسلہ میں جانے والے افراد کو دھوکہ دہی اور درمیانی افراد سے بچانے کیلئے حکومت اقدامات کرے گی۔ کسی بھی روزگار کے سلسلہ میں حکومت کے ذریعہ کارروائی کی تجویز ہے تا کہ وہاں پہنچنے کے بعد تلنگانہ کے افراد کو کوئی دھوکہ نہ ہوسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ چار ممالک کا دورہ کرتے ہوئے غیر مقیم ہندوستانیوں کے مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مقیم تارکین وطن کو اب وطن واپس لانے کی ضرورت نہیں حکومت اس بات کی کوشش کرے گی کہ انہیں روزگار کے حصول کے سلسلہ میں دھوکہ کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ 24 افراد غیر قانونی طور پر قیام کے سلسلہ میں خلیج کی جیلوں میں بند ہیں۔ ان میں سے تین کو وطن واپس بھیج دیا گیا ہے باقی 21 افراد کے معاملات میں تلنگانہ حکومت متعلقہ ممالک کے سفارتخانوں سے رجوع ہوگی تا کہ رہائی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کیرالہ حکومت غیر مقیم تارکین وطن کی واپسی پر سہولتیں فراہم کررہی ہیں تلنگانہ حکومت بھی اسی طرح کے قدم اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد این آر آئیز کے لئے علحدہ سیل قائم کیا جائے گا جسے کسی وزیر کی نگرانی میں رکھا جائے گا۔ کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے کہا کہ وائی ایس آر دور حکومت میں خلیجی ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم 35 ہزار افراد کو پاسپورٹس کا انتظام کیا گیا اور 1000 سے زائد افراد کو حکومت نے اپنے خرچ پر ٹکٹ فراہم کرتے ہوئے واپسی کا انتظام کیا تھا۔ انہوں نے شکایت کی کہ گذشتہ 9 ماہ کے دوران تلنگانہ حکومت نے غیر مقیم ہندوستانیوں کی بھلائی کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے ہیں۔ گجرات میں منعقدہ پرواس بھارتی دیوس میں تلنگانہ کے کسی نمائندے نے شرکت نہیں کی جس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت این آر آئیز کے مسائل کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کئی ہزار افراد خلیج کی جیلوں میں بند ہیں اور ان کی رہائی کا انتظام کرنے والا کوئی نہیں۔ حکومت نے این آر آئیز امور کیلئے علحدہ وزیر موجود نہیں۔ تلگودیشم کے رکن نرسا ریڈی نے کہا کہ خلیج میں روزگار کی تلاش کے سلسلہ میں جاکر پریشان ہونے والے افراد کیلئے تلگودیشم حکومت نے پیاکیج کا اعلان کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک انتقال کی صورت میںنعش کی منتقلی بھی غریب خاندانوں کیلئے مسئلہ بن چکی ہے۔ تلنگانہ حکومت کو ایک جامع پیاکیج کا اعلان کرنا چاہئے ۔